مبینہ ہراسگی : شہری کا داتا دربار کے ایڈمنسٹریٹر کیخلاف عدالت سے رجوع

پیر 27 جولائی 2026 21:56

مبینہ ہراسگی : شہری کا داتا دربار کے ایڈمنسٹریٹر کیخلاف عدالت سے رجوع
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 جولائی2026ء) داتا دربار کے ایڈمنسٹریٹر (پی آر او) کے خلاف شہری کو مبینہ ہراساں کرنے پر عدالت سے رجوع، فاضل عدالت نے ایس ایچ او داتا دربار سے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا شہری محمد ادریس نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ایڈمنسٹریٹر داتا دربار محمد علی خان اسے ہراساں کرتا ہے جس سے اسے وہاں عبادت اور روحانی سکون کی بجائے تنگ کیا جاتا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ داتا دربار کے پی آر او، جو آؤٹ آف کیڈر ایڈمنسٹریٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیںنے درخواست گذار شہری محمد ادریس کو مبینہ ہراسگی، دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے، غیر قانونی طور پر موبائل کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) نکلوانے کی دھمکیاں د یں اور ذاتی ساکھ کو متاثر کیا درخواست گزار محمد ادریس نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے داتا دربار کے ساؤنڈ سسٹم کی خرابی دور کرنے کے لیے داتا دربار کے پی آر او، جو آؤٹ آف کیڈر ایڈمنسٹریٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، محمد علی کو درخواست دی، مگر مسئلہ حل کرنے کے بجائے انہیں مبینہ طور پر دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے اور غیر قانونی طور پر ان کا موبائل فون ریکارڈ (CDR) نکلوانے کی دھمکیاں دی گئیں، حالانکہ ایسا اختیار کسی انتظامی افسر کے دائر اختیار میں شامل نہیں درخواست میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کو مختلف ذرائع سے مسلسل ہراساں کیا گیا، جس کے باعث داتا دربار پر عبادت اور روحانی سکون کے لیے حاضری بھی ذہنی اذیت کا سبب بن گئی ان کی ذاتی شہرت اور وقار کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی درخواست گذار نے اندراجِ مقدمہ کے لیے ایس ایچ او تھانہ داتا دربار کو درخواست دی، تاہم پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا، جس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ایس پی سٹی لاہور کو درخواست گزار کی شکایت پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے، شہری کی داد رسی یقینی بنانے اور مقدمہ کے اندراج سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس معاملے میں کی گئی کارروائی اور مقدمہ کے اندراج سے متعلق رپورٹ 30 جولائی سے قبل عدالت میں جمع کرائی جائے۔