سیکیورٹی کا خطرہ، امریکا کی چینی ہیومنائیڈ روبوٹس پر پابندی عائد

پابندی کا اطلاق غیر ملکی ساختہ جدید روبوٹک آلات پر ہو گا، ایف سی سی کا بیان

بدھ 29 جولائی 2026 22:29

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جولائی2026ء) امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی)نے اعلان کیا ہے کہ اس نے چین میں تیار کیے گئے ہیومنائیڈ روبوٹس پر پابندی عائد کر دی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی امریکی قومی سلامتی کے لیے ناقابلِ قبول خطرات پیدا کرتی ہے۔اس فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد امریکی مارکیٹ میں چینی ٹیکنالوجی کی موجودگی کو محدود کرنا ہے۔

ایف سی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندی کا اطلاق غیر ملکی ساختہ جدید روبوٹک آلات پر ہو گا، جن میں ہیومنائیڈ روبوٹس کے علاوہ جانوروں سے مشابہ چار ٹانگوں والے روبوٹس بھی شامل ہیں۔ایف سی سی کے حکام کا کہناتھا کہ جدید روبوٹک آلات ایسا ڈیٹا جمع کرتے ہیں جسے بدنیتی پر مبنی عناصر امریکی شہریوں کی نگرانی، غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے یا روبوٹس کو دور سے اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

حکام نے ممکنہ نگرانی، جاسوسی اور روبوٹس کے ریموٹ کنٹرول سے متعلق خدشات کو اس فیصلے کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ہیومنائیڈ روبوٹس کے علاوہ ایف سی سی نے کنیکٹڈ پاور اِنورٹرز کی درآمد پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔یہ آلات قابلِ تجدید توانائی کے نظام، بیٹریوں، بجلی کے گرڈ اور ڈیٹا سینٹرز کے بنیادی ڈھانچے کو باہم منسلک کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

نئی پابندیاں اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ملک میں تیار کی جانے والی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور کمپنیوں کو اپنی پیداواری سرگرمیاں امریکا منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔گزشتہ ہفتے ایف سی سی نے بعض غیر ملکی ساختہ فوجی معیار کے ڈرونز کی درآمد پر پابندی کی ایک تجویز کی ابتدائی منظوری بھی دی تھی، جسے وسیع پیمانے پر چینی کمپنیوں کی مصنوعات کو ہدف بنانے کی کوشش قرار دیا گیا۔ایف سی سی نے کئی چینی کمپنیوں کی اضافی مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی، جو 16 جولائی سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔