5اگست کو ''یوم سیاہ''کے طور پر منایا جائے گا، حریت کانفرنس،بھارتی انتظامیہ نے رام بن میں چار شہریوںکی جائیدادیں ضبط کرلیں

جمعرات 30 جولائی 2026 15:58

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جولائی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے تنازعہ کشمیر پر ہٹ دھرمی پرمبنی بھارتی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قیادت اپنے جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی جبر کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فورسز نے کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے سے روکنے کے لیے علاقے میں ہرطرف خوف و دہشت کا بازار گرم کررکھا ہے، بیگناہ نوجوانوںکو گرفتار کر کے تھانوں اور جیلوں میں پہنچایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کی ڈرانے ڈھمکانے اور انکی جائیدادیں ضبط کرنے کے لیے ''این آئی اے، ایس آئی اے '' اور دیگر ایجنسیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ کشمیری عوام 5اگست کو ''یوم سیاہ '' کے طور پرمناکر بھارت کو یہ واضح پیغام دیںگے کہ وہ اسکی ظالمانہ کارروائیوںاور غیر قانونی اقدامات سے ہرگز مرعوب نہیںہونگے اور حق خود ارادیت کی جدوجہدکو اسکے منطقی انجام تک پہنچا کردم لیں گے۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے پورے علاقے کا طویل ڈائون کیا تھا۔

بھارتی انتظامیہ نے ضلع رام بن کے مختلف علاقوں میںچار کشمیریوں غلام رسول، عبداللطیف نائیک، عبدالرشید اور مشتاق احمد کی اراضی کالے قانون ''یو اے پی اے '' کے تحت ضبط کر لی۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک کی ضبطی کا سلسلہ تیز کر دیا جسکا بنیادی مقصد انہیں معاشی طور پر مفلاک الحال بنانا اور ضبط شدہ جائیدادیں بھارتی ہندوئوں کو دیکر علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق بھارتی انتظامیہ نے رواں برس اب تک کشمیریوںکی سو سے زائد جائیدادیں ضبط کی ہیں۔امرتسر کی ایک ماہر امراض چشم ڈاکٹر اندو سنگھ نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں حالیہ احتجاج کے دوران طلباء پر پیلٹ بندوق کے استعمال نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں کئی برس قبل مہلک بندوں سے ہونے والی تباہی کی دلدوز یادیں تازہ کر دی ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ نہوںنے تقریبا ساڑے 4سو کشمیری پیلٹ متاترین کا علاج کیا تھا جن میں اکثر کم عمر لڑکے تھے۔