صدر میں پارکنگ مافیا کا راج، مبینہ طور پر ٹاؤن انتظامیہ کی سرپرستی میں شہریوں سے بھتہ وصولی جاری

بدھ 5 اگست 2026 23:11

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اگست2026ء) شہر میں پارکنگ فیس ختم کرنے کے سرکاری اعلان کے باوجود صدر اور اطراف کے تجارتی علاقوں میں مبینہ طور پر پارکنگ مافیا بدستور سرگرم ہے اور موٹرسائیکل و گاڑی سواروں سے غیر قانونی طور پر رقم وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹاؤن انتظامیہ کی مبینہ سرپرستی کے باعث یہ دھندا بلاخوف و خطر جاری ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ شاپنگ سینٹرز، بازاروں اور مارکیٹوں کے باہر بعض افراد پارکنگ کے نام پر زبردستی رقم وصول کرتے ہیں، جبکہ مطالبہ کرنے پر بدتمیزی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عناصر کھلے عام قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، مگر متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شہر میں کہیں ریت یا بجری سے بھرا ٹرک کسی گلی میں گر جائے تو پولیس فوری حرکت میں آجاتی ہے، لیکن سرعام پارکنگ کے نام پر مبینہ بھتہ وصول کرنے والے افراد پولیس کو کیوں نظر نہیں آتی عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سندھ، کمشنر کراچی، پولیس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ ٹاؤن انتظامیہ فوری نوٹس لے، غیر قانونی پارکنگ وصولی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور اگر کسی سرکاری اہلکار کی پشت پناہی ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو اس مبینہ بھتہ خوری سے نجات مل سکے۔