رام بن، ہندو توا کارکنوں کا تین مسلم نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد، ایک کی حالت تشویشناک

جمعہ 7 اگست 2026 16:58

جموں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے ضلع رام بن میں ہندو توا کارکنوں نے تین مسلم نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ دلدوز واقعہ4اگست کی شام ضلع کے علاقے بلاوٹ میں پیش آیا ہے۔ ایک متاثر ہ ونوجوان شکیل احمد نے رام بن تھانے میں درج کرائی شکایت میں کہا کہ وہ اور اسکے دو دیگر ساتھی کاریہ کے علاقے سے میترا گائے منتقل کررہے تھے، مویشیوں کی منتقلی کا یہ کام پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے باقاعدہ اجات نامہ کے تحت کیا جارہا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم بلاوٹ گاؤں پہنچے تو17کے لگ بھگ نام نہاد گائے رکشکوں نے ان پرحملہ کردیا ، گالیاں دیں اور ہم پر لاٹھیاں برسائیں ، مکے اور لاتیں ماریں۔

(جاری ہے)

شکایت کندہ نے مزید کہا کہ حملہ آوروں نے انہیں پولیس کو اطلاع دینے یا مویشیوںکی منتقلی جاری رکھنے کی صورت میں جان سے مارکنے کی دھمکیاں بھی دیں ۔ ہندو توا غنڈوں کے تشدد سے ایک نوجوان شدید زخمی ہوگیا جسے گورئمنٹ میڈیکل کالج جموں میں داخل کیا گیا ہے ۔

حملہ آور ہندو توا غنڈوں نے مسلم نوجوانوں سے انکے موبائل فون بھی چھین لیے جبکہ دوران حملہ مویشی خوفزدہ ہوکر مختلف سمتوں میں بھاگ گئے اور تاحال انکا کوئی کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے جسکے باعث انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم کسی کو ابھی گرفتار نہیں کیا ہے۔