کراچی میں پشتون تاجروں پر مبینہ پولیس تشدد، بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان کا شدید ردعمل

کاروبار بند کرانے اور تاجروں کو ہراساں کرنے کی مذمت، ملوث اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

پیر 10 اگست 2026 22:25

کراچی/کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 اگست2026ء) کراچی میں پشتون تاجر برادری پر مبینہ پولیس تشدد، تاجروں کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کرنے اور ہراساں کیے جانے کے معاملے پر بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی میر جھالاوان میر یونس عزیز زہری، ایم پی اے حاجی میر زابد علی ریکی، ایم پی اے حاجی اصغر علی ترین، نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما میر رحمت صالح بلوچ، ایم پی اے خیر جان بلوچ اور دیگر اپوزیشن ارکان نے کراچی میں پشتون تاجروں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کی شدید مذمت کی۔

اپوزیشن ارکان نے کہا کہ محنت کش تاجروں پر تشدد، انہیں ہراساں کرنا اور ان کے قانونی کاروبار زبردستی بند کرانا سراسر زیادتی اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جامع اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ پشتون تاجر برادری، ہوٹل مالکان اور دیگر کاروباری افراد طویل عرصے سے کراچی میں پرامن انداز میں اپنے کاروبار کررہے ہیں اور شہر کی معاشی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

تاجروں کے ساتھ مبینہ تشدد اور ناروا سلوک نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اس سے مختلف برادریوں کے درمیان غلط فہمیاں اور کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے۔بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے کہا کہ کسی بھی شہری یا تاجر کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے کاروبار کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی فرد یا کاروباری شخصیت کے خلاف کوئی شکایت یا قانونی معاملہ ہے تو اس کے لیے قانون میں موجود طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور کراچی میں پشتون تاجر برادری سمیت تمام کاروباری افراد کے جان و مال اور کاروبار کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔اپوزیشن ارکان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان شہریوں اور تاجر برادری کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔