نرسنگ کالج سیوی کے زیر اہتمام 8ویں سمسٹر کے بی ایس نرسنگ طلبہ کا ایک روزہ سیمینارکا انعقاد کیا گیا

ہفتہ 15 اگست 2026 20:05

سیوی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اگست2026ء) نرسنگ کالج سیوی کے زیر اہتمام 8ویں سمسٹر جنرک بی ایس نرسنگ کے طلبہ کے تعلیمی سفر کی تکمیل کے موقع پر سرکٹ ہاؤس سیوی میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی کمشنر سیوی ڈویڑن اسد اللہ فیض تھے، جبکہ تقریب کی صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سیوی ڈاکٹر عبدالقادر ہارون نے کی۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ سیمینار میں نرسنگ کالج سیوی کی پرنسپل میڈم غلام فاطمہ، ڈاکٹر رخسانہ شریف، ہیڈ نرس ٹیچنگ ہسپتال سیوی میڈم حسن بانو، میڈم مسرت عطا، ایف سی اسکول کی اساتذہ، کوآرڈینیٹر مس شبانہ سمیت دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی نرسنگ کالج سیوی کی پرنسپل میڈم غلام فاطمہ نے خطبہ? استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 8ویں سمسٹر کی بی ایس نرسنگ طالبات نے چار سالہ تعلیمی سفر مکمل کرلیا ہے اور سیمینار کے دوران وہ اپنے چار سالہ تعلیمی عمل کے دوران حاصل کیے گئے علم، تجربات اور عملی مہارتوں کو مختلف پریزنٹیشنز کے ذریعے پیش کر رہی ہیں۔اس موقع پر طالبات نے مختلف گروپس کی شکل میں پوسٹرز، چارٹس اور ہاتھ سے تیار کردہ ماڈلز کے ذریعے نرسنگ اور صحت کے شعبے سے متعلق پریزنٹیشنز پیش کیں، جنہیں شرکائ نے سراہتے ہوئے طالبات کی محنت کو دادِ تحسین دی۔

طالبات کی جانب سے قومی نغمے اور ٹیبلو بھی پیش کیے گئے، جبکہ سرکٹ ہاؤس کے ہال کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔مہمانِ خصوصی کمشنر سیوی ڈویڑن اسد اللہ فیض نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نرسنگ کا شعبہ صحت کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ نرسنگ ایک ایسا مقدس اور باوقار پیشہ ہے جس کے ذریعے مریضوں کی دیکھ بھال، انسانی خدمت اور معاشرے میں صحت مند زندگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک تربیت یافتہ نرس انسانیت کی خدمت کے ذریعے دنیا اور آخرت میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکتی ہے۔کمشنر اسد اللہ فیض نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی ضروریات کے مقابلے میں نرسز کی تعداد اب بھی کم ہے، جس کے باعث ملک بھر میں نرسنگ کالجز اور انسٹیٹیوٹس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ طلبہ و طالبات کو اس شعبے میں داخلہ دینے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ نرسنگ کے شعبے میں موجود کمی کو پورا کیا جاسکے۔

صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈی ایچ او سیوی ڈاکٹر عبدالقادر ہارون نے نرسنگ کالج سیوی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نرسنگ ایک مقدس، قابلِ احترام اور انسانیت کی خدمت سے وابستہ پیشہ ہے۔ انہوں نے اپنے 35 سالہ طبی کیریئر کا حوالہ دیتے ہوئے نرسنگ کے شعبے کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور پرنسپل، اساتذہ اور طالبات کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ہیڈ نرس ٹیچنگ ہسپتال سیوی میڈم حسن بانو نے اپنے خطاب میں کہا کہ سال 2000ئ میں جب سیوی میں نرسنگ اسکول کا قیام عمل میں آیا تو وہ ادارے کی پہلی مقامی طالبہ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسی ادارے میں طویل عرصہ بطور ٹیچر جبکہ کچھ عرصہ بطور پرنسپل بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہوں نے بی ایس نرسنگ کا چار سالہ کورس مکمل کرنے والی طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے وہ مستقبل میں بھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں گی۔

انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ سفر میں محنت، لگن اور ذمہ داری کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور اپنے اساتذہ کرام کی عزت و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھیں سیمینار کے دوران طالبات کی جانب سے مختلف ماڈلز، چارٹس اور پوسٹرز کی نمائش بھی کی گئی۔