بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 61 ارب روپے بڑھ 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا

کے الیکٹرک کی جانب سے 194ارب کی عدم ادائیگی اور تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات اور انتظامی نااہلیوں سے 262 ارب روپے کا اضافہ ہوا . سرکاری ادارے کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار 16 اگست 2026 19:13

بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 61 ارب روپے بڑھ 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اگست ۔2026 ) بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ مالی سال 2025-26 کے دوران 61 ارب روپے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جون 2025 کے اختتام پر 1614 ارب روپے تھا تازہ ترین گردشی قرضے کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجب الادا رقم 77 ارب روپے کم ہو کر 784 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سال 861 ارب روپے تھی.

(جاری ہے)

اسی طرح بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیوں (جینکوز) کی ایندھن فراہم کرنے والوں کو واجب الادا رقم بھی معمولی کمی کے بعد 90 ارب روپے رہ گئی، جو ایک سال پہلے 93 ارب روپے تھی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے گردشی قرضے کی فنانسنگ مالی سال 2025-26 میں 801 ارب روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) میں 660 ارب روپے رکھے گئے تھے فنانسنگ کے اس جزو نے مجموعی گردشی قرضے میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا.

مالی سال کے دوران مختلف عوامل کے باعث گردشی قرضے میں مجموعی طور پر 364 ارب روپے کا اضافہ ہوا، تاہم مالی گنجائش سے کی جانے والی ادائیگیوں، جن میں 302 ارب روپے کی سٹاک ادائیگیاں شامل ہیں، نے اس اضافے کو جزوی طور پر کم کیا نتیجتاً گردشی قرضے میں خالص اضافہ تقریباً 61 ارب روپے رہا. رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے ادائیگی نہ کرنا گردشی قرضے میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل رہا اس مد میں مالی سال 2025-26 کے دوران 194 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ رقم صرف چار ارب روپے تھی .

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات اور انتظامی نااہلیوں کے باعث بھی گردشی قرضے میں 262 ارب روپے کا اضافہ ہوا تاہم یہ رقم گزشتہ مالی سال کے 265 ارب روپے کے مقابلے میں معمولی کم رہی ڈسکوز کی جانب سے بجلی کی مکمل لاگت وصول نہ کیے جانے کے باعث 64 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے 132 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے دوسری جانب آئی پی پیز، پی ایچ ایل اور گردشی قرضے کی فنانسنگ پر سود کی مد میں 14 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال اس مد میں 58 ارب روپے شامل ہوئے تھے.

متعلقہ عنوان :