سعودی عرب میں 21 پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور مبینہ طور پر لاپتہ

ایک ہی برادری کے 13 قریب ترین رشتہ دار بھی شامل، متاثرہ نوجوان روزگار کی تلاش اور بہتر مستقبل کیلئے قانونی ویزوں پر گئے؛ رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی اتوار 16 اگست 2026 19:17

سعودی عرب میں 21 پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور مبینہ طور پر لاپتہ
سرگودھا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست2026ء) پنجاب کے ضلع سرگودھا کے قصبہ ساہی وال اور تحصیل بھر کے 21 محنت کش نوجوانوں کے سعودی عرب میں پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث ان کے اہلخانہ اور علاقے میں شدید تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ دنیا نیوز کے مطابق لواحقین نے بتایا کہ تمام متاثرہ نوجوان روزگار کی تلاش اور بہتر مستقبل کے سلسلے میں باقاعدہ ویزوں پر سعودی عرب گئے تھے اور وہاں مختلف شہروں میں ٹیکسی ڈرائیورز کے طور پر کام کر رہے تھے، تاہم رواں سال 28 جنوری سے ان تمام نوجوانوں کا اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوا اور ان کے بارے میں کوئی معلوماتی سراغ نہیں مل رہا۔

اہلخانہ نے بتایا کہ طویل عرصے سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں کہرام مچا ہوا ہے، لاپتہ ہونے والے افراد میں ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے 13 قریب ترین رشتہ دار بھی شامل ہیں جبکہ لاپتہ دیگر نوجوانوں میں مجتبیٰ بلوچ، رضی خان، اور محمد خاور اقبال وغیرہ نمایاں ہیں۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ خاندانوں نے فیلڈ مارشل، وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ سے اس سنجیدہ معاملے کا ہنگامی نوٹس لینے اور سعودی حکام سے سفارتی سطح پر فوری رابطہ کر کے ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔

اس ضمن میں لواحقین کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب میں ان نوجوانوں سے خدانخواستہ کوئی قانون شکنی یا جرم سرزد ہوا ہے تو اس کی مکمل معلومات اور ثبوت فراہم کیے جائیں، اور اگر وہ کسی غلط فہمی یا جرم میں ملوث نہیں ہیں تو ان کی فوری بازیابی ممکن بنائی جائے، سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کو متحرک کر کے ان تمام 21 نوجوانوں کی خیریت اور موجودگی کا پتہ لگا کر انہیں ان کے پیاروں سے ملایا جائے۔