قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا کی خیبرپختونخوا میں دلچسپی ختم ہوگئی ہے. تھامس ایکرٹ

خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی ہماری سفارتی کوششوں جاری رہیں گی.پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل کا الوداعی ڈنر کے موقع پر خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار 16 اگست 2026 19:42

قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا کی خیبرپختونخوا میں دلچسپی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اگست ۔2026 ) خیبرپختون خواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ کا کہنا ہے کہ قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے ملک کی خیبرپختونخوا میں دلچسپی ختم ہوگئی ہے اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہومن رائٹس آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز کی جانب سے الوداعی ڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قونصلر خدمات، تجارتی اور کاروباری تعلقات کے فروغ، سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے اور خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی ہماری سفارتی کوششوں جاری رہیں گی.

(جاری ہے)

پشاور میں قونصل خانے کی بندش کے بعد خیبر پختونخوا کے ساتھ سفارتی روابط کی ذمہ داری اب امریکی سفارت خانہ اسلام آباد کو منتقل کر دی گئی ہے تھامس ایکرٹ امریکی محکمہ خارجہ کے سینیئر کیرئیر ممبر ہیں اور اپریل 2003 سے محکمہ خارجہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اپنے 22 سالہ کیریئر کے دوران وہ گبون، ویت نام، برما اور قبرص میں تعینات رہے ہیں. اس کے علاوہ انہوں نے دو مرتبہ بغداد، عراق، میں خدمات انجام دیں جہاں انہوں نے 2011 میں تمام حفاظتی آپریشنز کی نگرانی کی اور 2019 میں بغدادسفارت خانے کی سکیورٹی فورسز کی قیادت کی انہوں نے کابل، افغانستان، میں دو عارضی ڈیوٹی اسائنمنٹس کے لیے رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے اس وقت کے صدر حامد کرزئی کے تحفظ کو یقینی بنایا تھا.