سرکاری سکولوں کی خستہ حالی مزید حادثات کا سبب بن سکتی ہے، مولانا محمد صالح انڈھڑ

جمعرات 20 اگست 2026 22:11

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2026ء) جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل و ضلع سکھر کے امیر مولانا محمد صالح انڈھڑ نے شاہ خالد کالونی سکھر میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کی چھت کا پلستر گرنے کے نتیجے میں متعدد طالبات کے زخمی ہونے کے افسوسناک واقعے پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمی طالبات کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے،حضرت مولانا محمد صالح انڈھڑ نے کہا کہ چند روز قبل ڈبل سیکشن اسکول سکھر میں بھی چھت کا پلستر گرنے سے طلبہ زخمی ہوئے تھے اور اب شاہ خالد کالونی کے اسکول میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتیں عدم توجہی، ناقص دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں مزید قیمتی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا امان اللہ سکھروی، پریس ترجمان جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر، کے جاری کردہ بیان میں کیا ، جاری کردہ بیان کے مطابق مولانا محمد صالح انڈھڑ نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے سکھر سمیت سندھ بھر کے متعدد سرکاری تعلیمی ادارے خستہ حالی کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

اسکولوں میں محفوظ عمارتوں، صاف پانی، بجلی، فرنیچر، واش رومز، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی طلبہ و طالبات کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں طلبہ و طالبات ایسے بھی ہیں جو اسکول کی عمارت نہ ہونے، عمارت کی خستہ حالی یا تدریسی عملہ دستیاب نہ ہونے کے باعث تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے اسکولوں کی فوری نشاندہی کرکے وہاں عمارت، اساتذہ اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ کوئی بچہ صرف حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے،مولانا محمد صالح انڈھڑ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ متعلقہ ادارے اکثر ایسے حادثات کے بعد وقتی اقدامات اور نمائشی دوروں تک محدود رہتے ہیں، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کی مستقل بنیادوں پر نگرانی اور مرمت کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

ضلع سکھر سمیت سندھ بھر میں جو اسکول عمارتیں خستہ حال ہیں، ان کی فوری مرمت اور بحالی کی جائے اور خطرناک عمارتوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ بنایا جائے۔ بچوں کو محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت اور محکمہ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ہے،مولانا محمد صالح انڈھڑ نے حکومت سندھ، محکمہ تعلیم، کمشنر سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شاہ خالد کالونی اور ڈبل سیکشن اسکول کے واقعات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، زخمی طالبات اور طلبہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ضلع سکھر کے تمام سرکاری اسکولوں کا فوری سیفٹی آڈٹ کرکے خستہ حال عمارتوں کی فوری مرمت و بحالی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معصوم بچوں کی جانیں کسی بھی قسم کی غفلت کی نذر نہیں ہونی چاہئیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، عمارتوں کی مضبوطی، تدریسی عملے کی دستیابی اور طلبہ کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ کوئی طالب علم عمارت یا عملے کی عدم دستیابی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے اور آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کا سدباب ہوسکے۔