وزیراعظم آزادی پریڈ میں اعلیٰ انتظامی افسروں کی ذاتی تشہیر پر برہم
ہفتہ 22 اگست 2026 13:03
(جاری ہے)
مراسلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے 14 اگست کو منعقد ہونے والی سرکاری تقریب میں پیش آنے والے اس واقعہ کا بہت سنجیدہ نوٹس لیا ہے، دونوں سینئر افسران کے گھوڑا گاڑی میں سوار ہونے کے واقعہ پر عوامی سطح پر بھی شدید تنقید سامنے آئی تھی۔دستاویز کے مطابق وزیراعظم نے گہری مایوسی اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح شان و شوکت اور نمود و نمائش کا مظاہرہ ایک ایسا تاثر دیتا ہے جو خصوصی مراعات، تکبر اور ذاتی تشہیر سے وابستہ ہے، جبکہ یہ رویہ عوامی خدمت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ سول افسران اور سرکاری عہدیداران کو ہر وقت عاجزی، ضبط، وقار اور بہتر فیصلہ سازی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، اس طرح کا طرز عمل سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور اعلیٰ سرکاری افسران سے متوقع معیار کے بھی خلاف ہے۔مراسلے میں مزید یاد دہانی کرائی گئی کہ وفاقی دارالحکومت کے منتظمین کی حیثیت سے دونوں افسران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضابط اخلاق، شائستگی، ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اور مناسب طرزِ عمل کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھیں گے۔مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں محتاط رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ اس نوعیت کے طرزِ عمل کا اعادہ نہ ہو، اس ہدایت کو حرف بہ حرف اور اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد کے لیے سمجھا جائے۔وزیراعظم کی جانب سے یہ سرزنش اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں افسران کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ 14 اگست کی پریڈ میں ایک ایسی گھوڑا گاڑی میں سوار ہو کر پہنچتے دکھائی دیے جو بظاہر صدارتی بگھی معلوم ہوتی تھی۔وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اعلیٰ انتظامی افسران بگھی پر سوار تقریب میں پہنچے اور وہاں موجود افراد کو مبینہ طور پر تالیاں بجانے کے لیے کہا گیا، تاہم، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیو میں تالیاں بجنے کی آواز سنائی نہیں دیتی، اس منظر پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی اور بعض نے اسے نوآبادیاتی دور میں اختیار اور مراعات کی نمائش سے تشبیہ دی۔علاوہ ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس معاملے کی مختلف وضاحت پیش کرتے ہوئے دونوں افسران کا دفاع کیا۔ایکس پر جاری ایک بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ افسران کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا، صدر اور وزیراعظم کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے باعث چیف گیسٹ اور وہ خود تاخیر کا شکار ہوگئے تھے، چونکہ عوام شام 5 بجے سے انتظار کر رہے تھے، اس لیے افسران کو ہدایت کی گئی کہ لوگوں کو مزید انتظار نہ کروایا جائے اور تقریب کا آغاز تقریباً 6 بجے کر دیا جائے۔وزیر داخلہ کے مطابق بگھی اصل میں چیف گیسٹ کے لیے مختص کی گئی تھی، لیکن ناگزیر حالات کے باعث اسے دونوں افسران کو استعمال کرنا پڑا، انہوں نے کہا کہ دونوں افسران نے ابتدا میں چیف گیسٹ اور وزیر کی عدم موجودگی میں پروگرام شروع کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم عوام کی سہولت کے پیشِ نظر انہیں باقاعدہ ہدایت دی گئی کہ تقریب کا آغاز کر دیں۔مزید اہم خبریں
-
ورچوئل اثاثوں کا فریم ورک ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ہے، بلال بن ثاقب
-
عمران خان سے جنون کی حد تک عشق ہے، ان کی بہن کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکائیں گے، سہیل آفریدی
-
ایک دفعہ پھر اس ملک کے ’ان ٹچ ایبل‘ نے ثابت کیا کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں، سہیل آفریدی
-
16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا
-
ڈپٹی وزیراعظم کی زیر صدارت ایکنک کا اجلاس،مختلف ترقیاتی منصوبوں کے جامع ایجنڈے پر غور
-
راولپنڈی میں شوہر نے والد اور ملازم کے ساتھ مل کر بیوی کو قتل کردیا
-
عمران خان کے معاملے پر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست
-
سپیکر پنجاب اسمبلی کی زیرصدارت حلقہ پی پی 179 میں جاری و نئی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس
-
پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو 2 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان
-
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا زیرتعمیر حسن سلیمان میموریل اسپتال کا دورہ
-
آئی فون کی ضد نے ماں باپ اور بیٹے کی جان لے لی
-
اسلام آباد،این سی سی آئی اے کا کال سینٹرپر چھاپہ، مبینہ سائبرکرائم میں ملوث افراد موقع سے فرا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.