مہمند میں جائیداد تنازعہ اے ڈی آر جرگہ کے ذریعے حل، قومی مشران کی انتظامیہ کے کردار کی تعریف

ہفتہ 22 اگست 2026 21:27

غلنئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اگست2026ء) ضلع مہمند میں جائیداد تنازعے کو انتظامیہ کی جانب سے اے ڈی آر جرگہ کے ذریعے حل کرنے کا قومی مشران نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بروقت انتظامی اقدام سے ممکنہ خطرہ ٹل گیا۔ان خیالات کا اظہار تحصیل بائیزئی، سنہ خیل، پانڈو خیل شندرہ کے قومی مشران حاجی خان زمان، محمد دوستان، کتاب جان، اشفاق، ظاہر شاہ، خالد اور دیگر نے مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ قوم عیسی خیل کے علاقے سنہ خیل، پانڈو خیل شندرہ میں دو فریقین کے درمیان طویل عرصے سے جاری جائیداد کا تنازعہ اے ڈی آر جرگہ اور ضلعی انتظامیہ کی مثر مداخلت سے پرامن طور پر حل کر لیا گیا، جس پر وہ جرگہ اور انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مذکورہ جائیداد کا تنازعہ طویل عرصے سے چلا آ رہا تھا اور اس کی حساس نوعیت کے باعث بروقت حل ناگزیر تھا۔

اگر معاملہ مزید طول پکڑتا تو دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی بڑھنے اور بڑے قبائلی تصادم میں تبدیل ہونے کا خدشہ موجود تھا۔قومی مشران نے الزام عائد کیا کہ مخالف فریق خوگا خیل قوم سے تعلق رکھتا ہے اور مبینہ طور پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سنہ خیل، پانڈو خیل شندرہ کے علاقے میں شناختی کارڈ بنوائے اور بعدازاں وہاں کی اراضی پر دعوے کیے۔

مشران کے مطابق انتظامیہ کی وساطت سے دونوں فریقین نے اے ڈی آر کے تحت معاملہ جرگے کے سپرد کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ مشاورت سے ملک ریحان شاہ، ملک زاہد موسی خیل، مفتی ولی محمد، ناظم یکہ توت پشاور اور سرپنچ ملک نادر منان کو بااختیار نمائندہ مقرر کیا گیا۔مشران کے مطابق انتظامیہ نے دونوں فریقین کو طلب کیا۔ جرگہ ممبران نے ان کا مقف سنا اور معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا، جس کے بعد جرگہ عمل کے ذریعے جائیداد کے تنازعے میں مخالف فریق کی درخواست واپس ہونے سے مسئلے کے حل کی راہ ہموار ہوئی۔

قومی مشران نے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر)بلال شاہد را، اے ڈی سی (جنرل)افتخار الدین، اسسٹنٹ کمشنر بائیزئی آفتاب احمد، تحصیلدار عبدالرحمن اور دیگر متعلقہ افسران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے حساس معاملے کو مزید پیچیدہ ہونے سے روکنے اور فریقین کو مذاکرات اور جرگے کے ذریعے مسئلہ حل کرنے میں موثر کردار ادا کیا۔

متعلقہ عنوان :