افغان طالبان رجیم کا نیا پولیس قانون، شہری آزادیوں پر ایک اور کاری ضرب

پیر 24 اگست 2026 22:42

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 اگست2026ء) قابض افغان طالبان رجیم اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کیلئے طاقت اور جبرکا مسلسل استعمال کر رہی ہے۔افغان طالبان نے نئے نام نہاد پولیس قانون کی آڑمیں مظاہروں پر پابندی عائد کر کے عوام سے احتجاج کا بنیادی حق بھی چھین لیا۔افغان میڈیا افغانستان انٹرنیشنل اور کابل ناؤ کے مطابق طالبان رجیم نے نئے پولیس قانون کے تحت عوامی اجتماعات پرمکمل پابندیاں عائد کر کے پولیس کے غیرقانونی اختیارات مزید بڑھا دیے ہیں۔

نئے پولیس قانون کے تحت مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کرکے پٴْرامن احتجاج اورعوامی سطح پرآوازاٹھانے کی گنجائش ختم کردی گئی۔افغانستان انٹرنیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ نئے افغان پولیس قانون کے تحت زیرحراست افراد کی حراست کی مدت 3 دن سے بڑھا کر10روز کردی گئی ہے۔

(جاری ہے)

نئیقانون کے تحت پولیس کومشتبہ افراد کیخلاف سخت زبان کے استعمال اور انہیں توبہ پر مجبور کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

متنازع قانون کی ایک اورغیرانسانی شق کے تحت افغان پولیس کو ملزمان کو موت کی دھمکی دینے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔افغان سیاسی تجزیہ کار احمد احسان سروریار کے مطابق طالبان رجیم کینئے قانون کے تحت پولیس کو پٴْرامن احتجاج کرنے والوں کیخلاف طاقت کے استعمال اور تشدد کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔انسانی حقوق کی فعال رکن فروزان عظمیٰ نے کہا کہ طالبان رجیم کے نئے پولیس قانون کا مقصد معاشرتی اصلاح کے بجائے عوام کے دائرہ آزادی کو محدود کرکے انکی زندگیوں کو مزید دشوار بنانا ہے۔