& شانگلہ بشام تا خوازہ خیلہ ایکسپریس وے منصوبے کے حوالے سے ایک بار پھر سیاسی سطح پر بحث شروع

48 کلومیٹر طویل منصوبے کی تازہ ری وائزڈ لاگت 116.634 ارب روپے تک پہنچ گئی، اصل منظور شدہ لاگت تقریباً 79.131 ارب روپے تھی، ن لیگ کے رہنما کا دعویٰ

پیر 24 اگست 2026 19:50

vشانگلہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 اگست2026ء) شانگلہ بشام تا خوازہ خیلہ ایکسپریس وے منصوبے کے حوالے سے ایک بار پھر سیاسی سطح پر بحث شروع ہوگئی ہیںمسلم لیگ (نواز) کے ایک اہم رہنما کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 48 کلومیٹر طویل منصوبے کی تازہ ری وائزڈ لاگت 116.634 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ منصوبے کی اصل منظور شدہ لاگت تقریباً 79.131 ارب روپے تھی جسکے مطابق منصوبے کی لاگت میں تقریباً 47 فیصد اضافہ ہوا ہیں۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ 22 اگست 2026 کو ہونے والے ECNEC اجلاس میں خوازہ خیلہ تابشام ایکسپریس وے سمیت مختلف ری وائزPC-1پر غور کیا گیاجبکہ منصوبے کا ری وائزڈ PC-1 مارچ 2026 میں وزارت منصوبہ بندی کو منظوری کے لیے جمع کرایا گیا تھا۔مذکورہ دعوے کے مطابق منصوبے میں تقریباً 36 کلومیٹر نیا ایکسپریس وے، 12 کلومیٹر موجودہ سڑک کی اپ گریڈیشن، 7 ٹنلز، 45 پل، 5 فلائی اوورز اور 52 باکس کلورٹس شامل ہیں جبکہ منصوبے کے لیے چین سے CPEC فریم ورک کے تحت مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم سیاسی مخالفین اور دیگر جماعتوں کے حلقوں نے اس دعوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے ایک مرتبہ پھر غیرمصدقہ اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس اس وقت خوازہ خیلہ تابشام ایکسپریس وے کے حوالے سے عملی طور پر کسی نئے منصوبے، حتمی منظوری یا فنڈنگ کا واضح اعلان موجود نہیں اس لیے محض اعداد و شمار پیش کرکے منصوبے کی پیش رفت کا تاثر دینا درست نہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل شانگلہ سے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام بھی خوازہ خیلہ تابشام ایکسپریس وے کے حوالے سے متعدد مرتبہ موقف اختیار کر چکے ہیں کہ منصوبہ اہم ہے، تاہم اس پر عملی کام اس وقت شروع ہوگا جب اس کیلئے ڈونر یا مطلوبہ مالی معاونت کا انتظام ہو جائے گا۔شانگلہ، بشام، سوات اور پورے ملاکنڈ ڈویژن ، گلگت بلتستان کے عوام طویل عرصے سے اس منصوبے کو علاقائی ترقی، تجارت، سیاحت، روزگار اور بہتر سفری سہولیات کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی دعووں کے بجائے وفاقی حکومت کو منصوبے کی حتمی منظوری، فنڈنگ، ڈونر اور تعمیراتی ٹائم لائن کے حوالے سے واضح اور باضابطہ پوزیشن سامنے لانی چاہیے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ خوازہ خیلہطبشام ایکسپریس وے حقیقتاً عملی مرحلے میں داخل ہوا ہے یا تاحال کاغذی کارروائی تک محدود ہیں