مودی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار، بھارتی نوجوان دوبارہ احتجاج پرمجبور

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انکشافات سے مودی حکومت کا دوغلاپن بے نقاب

جمعرات 27 اگست 2026 11:20

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اگست2026ء) بھارت میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کی مسلسل ہٹ دھرمی اوردھوکہ دہی کے باعث بھارتی نوجوان ایک مرتبہ پھراحتجاج کرنے پرمجبور ہو رہے ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی حکومت پروعدہ شکنی کا الزام عائد کر تے ہوئے 5 ستمبر کوایک بار پھراحتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

ترجمان کاکروچ جنتا پارٹی سورو داس کے مطابق پیپر لیک کے باعث دلبرداشتہ ہو کرجان گنوانے والے طلباء کے والدین کومودی حکومت نے تاحال معاوضہ ادا نہیں کیا۔ بھارتی حکومت نے طلباء کے خلاف درج متعدد ایف آئی آر ختم کرنے کی یقین دہانی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ سی جے پی کے احتجاج کے دوران مودی حکومت نے اقتدار کی خاطر نوجوان نسل کیخلاف بربریت کی انتہا کر دی تھی۔

(جاری ہے)

ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی انتہا پسند مودی حکومت کے جبرواستبداد اورنوجوانوں پرکھلے عام فائرنگ کو بے نقاب کرچکی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سی جے پی کے احتجاج کے دوران بھارتی فورسزنے غیرقانونی طورپر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ بھارتی پولیس نے نوجوانوں پرگولیاں، شاٹ گن، آنسو گیس، گرینیڈز اوربجلی کے کرنٹ لگانے جیسیآلات کا بے دریغ استعمال کیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے عہدیدارآکار پٹیل نے کہا کہ بھارتی حکام نے مواصلاتی بلیک آؤٹ اوررکاوٹیں کھڑی کرنے کے پٴْرامن مظاہرین کوکچلنے کے لیے غیرضروری طاقت کا استعمال کیا۔ بھارتی پولیس نے ان پیلٹ گنز کا استعمال کیا جن سے مقبوضہ جموںو کشمیرمیں بھی اموات اوراندھے پن کے متعدد کیسزسامنے آ چکے ہیں۔مودی کی ہٹ دھرمی کیخلاف سی جے پی کی احتجاجی کال اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انکشافات نے مودی کے دوغلے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔