یونیورسٹی آف سرگودھا میں آڈٹ اعتراضات، مالی معاملات،قواعد و ضوابط کی پابندی اور ادارہ جاتی جواب دہی کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد
جمعرات 27 اگست 2026 20:31
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خریداری اور مالی معاملات میں ہر مرحلے کی منظوری، ادائیگی، ٹینڈرنگ، سامان کی وصولی اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ ہونا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر مکمل اور قابلِ تصدیق ثبوت پیش کیا جا سکے۔
پرو وائس چانسلر نے مزید کہا کہ کسی بھی مالی یا انتظامی معاملے کی شفافیت صرف کارروائی مکمل کرنے سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام مراحل کا ریکارڈ واضح، مکمل اور قواعد کے مطابق مرتب کیا جائے۔ متعلقہ افسران اور شعبہ جات کو چاہیے کہ فائلوں میں منظوریوں، نوٹسز، تقابلی جائزوں، بلوں، رسیدوں اور ادائیگیوں سمیت تمام ضروری دستاویزات بروقت شامل کریں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔پرو وائس چانسلر نے مزید کہا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا نے ریکارڈ مینجمنٹ اور خریداری کے نظام کو ڈیجیٹل بنا کر نگرانی، شفافیت اور جواب دہی کو بہتر کیا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ریکارڈ تک رسائی، معاملات کی نگرانی اور ہر مرحلے کی جانچ پڑتال زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو رہی ہے۔انہوں نے تمام شعبہ جات پر زور دیا کہ وہ خریداری اور مالی معاملات میں مقررہ طریقہ کار، مالی اختیارات اور متعلقہ قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ انکا کہناتھا کہ آڈٹ اعتراضات کومحض ایک رسمی کارروائی سمجھنےکی بجائےانکی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تاکہ ایک ہی نوعیت کے اعتراضات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اینڈاسٹورز پروفیسر ڈاکٹر عرفان شہزاد نے آڈٹ اعتراضات کی بنیادی وجوہات، کمزور دستاویزات، طریقہ کار کی خلاف ورزی اور نگرانی کے فقدان پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ اعتراضات کے مستقل خاتمے کے لیے اصلاحی اقدامات کے ساتھ مستقبل میں ایسی غلطیوں کی روک تھام بھی ضروری ہے۔ انہوں نے شرکا کو ریکارڈ کی درست ترتیب، خریداری کے مراحل اور آڈٹ کے لیے مطلوبہ شواہد محفوظ رکھنے کے حوالے سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سالانہ خریداری منصوبے پر مؤثر عمل درآمد سے خریداری کے معاملات کو پہلے سے منظم کرنے، ضروریات کا تعین کرنے اور قواعد کے مطابق بروقت مکمل کرنے میں مددملتی ہے۔حکومت پاکستان کے آڈٹ افسر خرم شہزاد گوندل نے کہا کہ ٹینڈرز، منظوریوں، بلوں، ادائیگیوں، سامان کی وصولی اور دیگر شواہد کا مکمل ریکارڈ آڈٹ پیراز کے جواب کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ قواعد کے مطابق بروقت پیروی، مکمل دستاویزی جواب اور مقررہ مدت میں اعتراضات نمٹانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر یا نامکمل ریکارڈ کی وجہ سے اعتراضات برقرار رہ سکتے ہیں اور ادارے کو مالی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ڈائریکٹر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر امجد حسین جنجوعہ نے بھی خطاب کیا۔مزید تعلیم کی خبریں
-
ایچ ای سی نے ممتاز قومی پروفیسر ایوارڈ 2026 کیلئے سرکاری و نجی شعبے کی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اہل پروفیسرز سے نامزدگیاں طلب کر لیں
-
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں خزاں 2026 سمسٹر کے داخلوں کا سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
-
ایچ ای سی کے نام پرجعلسازی، شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری
-
انٹرمیڈیٹ حصہ اول سائنس پری انجینئرنگ کے سالانہ امتحانات برائے 2026ء کے نتائج کا اعلان
-
سرکاری و نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کیلئے مساوی اور میرٹ پر مبنی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، چیئرمین ایچ ای سی
-
پنجاب کے سرکاری سکولوں کی بہتری، گریڈزمنصوبے پراہم پیش رفت
-
میٹرک کے دوسرے سالانہ امتحان کیلئے رول نمبرسلپ جاری
-
سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے 4 امیدواروں کے صفر نمبر
-
پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن فیس میں بڑے اضافے کی تجویز
-
تعلیمی نظام کو اے آئی کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے‘ علی ڈار
-
پنجاب حکومت کا سکول ٹیچر انٹرنزکی دوبارہ بھرتی کا اہم فیصلہ
-
ایچ ای سی کا غیر ملکی جامعات کے ساتھ تعاون کے تحت پاکستان میں پیش کیے جانے والے تعلیمی پروگراموں میں داخلے یا فیس کی ادائیگی سے قبل متعلقہ ادارے اور پروگرام کی ایچ ای سی سے منظوری کی تصدیق کرنے کا ..
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.