فیک ویڈیو کیس: عدالت میں غنڈہ گردی نہیں چلے گی، کسی بھی عدالتی حکم کو چیلنج کرنا حق ہے. عظمیٰ بخاری

اگر ایک وزیر کے ساتھ عدالت میں ایسا رویہ ہو سکتا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟ ملزمہ جیل سے آ رہی ہے، اس کی بیٹی ساتھ ہے لیکن اس کو شرم پھر بھی نہیں آتی. صوبائی وزیراطلاعات کی عدالت میں گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 2 ستمبر 2026 22:07

فیک ویڈیو کیس: عدالت میں غنڈہ گردی نہیں چلے گی، کسی بھی عدالتی حکم کو ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 ستمبر ۔2026 ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے ضلع کچہری پہنچیں، جہاں انہوں نے عدالت کے روبرو بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرایا عظمیٰ بخاری نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ اس کیس میں ملزمہ نہیں بلکہ شکایت کنندہ ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے.  پریس ریلیزکے مطابق انہوں نے عدالت میں کہا کہ یہ محض کوئی عام سول کیس نہیں بلکہ ایک عورت کی عزت اور وقار کا معاملہ ہے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کی ایک فیک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت اور کرب سے گزرنا پڑا انہوں نے کہا کہ میں کس کرب سے گزری ہوں، آپ سوچ بھی نہیں سکتے.

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ 24 اور 25 جولائی 2024 کی درمیانی رات وہ اپنے گھر میں سوشل میڈیا دیکھ رہی تھیں کہ فیس بک اور ٹک ٹاک پر کچھ ویڈیوز ان کی نظر سے گزریں جن کی کیپشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی کوئی ویڈیو لیک ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ٹوئٹر اکاﺅنٹ چیک کیا تو موجودہ ملزمہ فلک جاوید کی جانب سے کیا گیا ٹویٹ بھی نظر سے گزرا، جس کے بعد فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی.

عظمیٰ بخاری کے مطابق اگلے روز وہ لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کی عدالت میں پہنچیں اور انہیں عدالت کے باہر تقریباً چار گھنٹے انتظار کرنا پڑا ان کی درخواست منظور ہونے کے بعد کارروائی کا حکم دیا گیا صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہیں سکیورٹی خدشات بھی لاحق تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے عدالت سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست کی تھی.

ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں ملزمہ اور اس کے لوگوں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے رویے کے باعث بھی انہیں خدشات تھے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر ایک وزیر کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو پھر عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا انہوں نے کہا کہ وہ ملزمہ سے خوفزدہ نہیں ہیں میں نے ملزمہ سے خوفزدہ ہونا، قیامت کتنے بجے ہے؟. عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کسی بھی عدالتی حکم کو چیلنج کرنا ہر فریق کا حق ہے تاہم عدالت میں غنڈہ گردی نہیں چل سکتی وزیر اطلاعات نے عدالت سے کہا کہ وہ ملزمہ کے والدین کا احترام کرتی ہیں لیکن ان کے بارے میں استعمال کی جانے والی زبان قابل افسوس ہے انہوں نے کہا کہ وہ عدالت سے صرف انصاف چاہتی ہیں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے حامی اور ملزمہ کے لوگ آمنے سامنے ہوں اور کسی قسم کی بدمزگی پیدا ہو، اسی لیے انہوں نے بھی اپنے ساتھ آنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں کو روک دیا تھا.

دورانِ سماعت ایک یوٹیوبر کی جانب سے عظمیٰ بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے متعلق ٹویٹ کا معاملہ بھی سامنے آیا عظمیٰ بخاری نے عدالت میں استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ وارنٹ کب جاری ہوئے متعلقہ یوٹیوبر نے کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری سے معذرت بھی کی سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری اور فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی .

عظمیٰ بخاری نے وکیل سے کہا کہ آپ ڈکٹیٹر نہ بنیں، آواز نیچی کرکے بات کریں بعد ازاں عظمیٰ بخاری اور فلک جاوید کے درمیان بھی کمرہ عدالت میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا عظمیٰ بخاری کے وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالتی حکم کو چیلنج کرنا ہر شہری کا حق ہے، ہم نے قانون کے مطابق ہی عدالتی حکم کو چیلنج کیا ہم نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس وقت کیس کی سماعت رکھ لی جائے اور میری موکل عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروا سکیں، جس کو عدالت نے قبول کیا عدالت میں اگر ملزمہ کے وکیل سیاسی گفتگو کریں گے تو اس کا جواب بھی سیاسی مل سکتا ہے، لیکن ہم عدالت کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے عدالت میں ذاتی حملوں اور سیاسی بیان بازی سے گریز کیا جائے گا تو سماعت بہتر طریقے سے آگے بڑھ سکتی ہے ملزمہ کے وکیل سیاسی گفتگو کرنے کی بجائے پوائنٹ پر بات کریں گے تو کیس مزید آگے بڑھے گا عدالت میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ نہیں ہونا چاہیے جو عدالت کا ماحول خراب کرتے ہیں عدالت نے آئندہ سماعت پر متعلقہ وکلا کو صرف کمرہ عدالت میں آنے کی مشروط اجازت دے دی اور یوٹیوبرز بھی آئندہ کمرہ عدالت میں نہیں آئیں گے عدالت نے جیل حکام کو فلک جاوید کو 20 منٹ میں عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا عدالت نے عظمیٰ بخاری کے بیان پر جرح کے لیے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کیس کی کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کردی.