امریکی وسط مدتی انتخابات، سینیٹ کی 35 نشستوں پر معرکہ‘ریپبلکن پارٹی کے مقبولیت میں تاریخی تنزلی

ڈیموکریٹس سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرکے صدرٹرمپ کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں. واشنگٹن کے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 3 ستمبر 2026 15:54

امریکی وسط مدتی انتخابات، سینیٹ کی 35 نشستوں پر معرکہ‘ریپبلکن پارٹی ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔03 ستمبر ۔2026 ) امریکا میں رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخابی مقابلہ ہوگا، جہاں ریپبلکن پارٹی اپنی موجودہ اکثریت برقرار رکھنے جبکہ ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے امریکی سینیٹ میں اس وقت ریپبلکن پارٹی کو 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 45 اور دو نشستیں آزاد ارکان کے پاس ہیں جن کی حمایت ڈیموکریٹ کو حاصل ہے نومبر کے انتخابات میں سینیٹ کی 33 معمول کی نشستوں کے علاوہ فلوریڈا اور اوہائیو کی دو خصوصی نشستیں بھی انتخابی عمل کا حصہ ہوں گی.

(جاری ہے)

انتخابی ماہرین کے مطابق سینیٹ کا کنٹرول چند اہم ریاستوں میں انتہائی سخت مقابلوں سے طے ہو سکتا ہے الاسکا، آئیووا، مین، مشی گن، اوہائیو اور ٹیکساس کی نشستوں کو اس وقت ”ٹاس اپ“ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے الاسکا میں ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار میری پیلتولا سے ہے جبکہ مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن کا سامنا ہے.

ریاست آئیووا میں ریپبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ کے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کے بعد ایشلے ہنسن ریپبلکن امیدوار ہیں جن کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار جوش ٹورک سے ہوگا اسی طرح مشی گن میں ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد عبدالالسید اور ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے درمیان مقابلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے. ریاست اوہائیو میں خصوصی انتخاب کے تحت ریپبلکن سینیٹر جان ہسٹڈ کا مقابلہ سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ براو¿ن سے ہوگا جبکہ ٹیکساس میں ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن اور ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹیلاریکو کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے دوسری جانب جارجیا، شمالی کیرولائنا اور نیو ہیمپشائر کو بھی اہم انتخابی میدان سمجھا جا رہا ہے، جہاں ڈیموکریٹ امیدوار نسبتاً مضبوط پوزیشن میں قرار دیے جا رہے ہیں.

ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی موجودہ نشستوں کا دفاع کرنا ہے کیونکہ 2026 میں مقابلے میں آنے والی بڑی تعداد ریپبلکن نشستوں کی ہے دوسری طرف ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے ریپبلکنز سے متعدد نشستیں چھیننے کے ساتھ اپنی موجودہ نشستیں بھی محفوظ رکھنا ہوں گی انتخابی نتائج امریکی صدر کی آئندہ دو برس کی قانون سازی کی پالیسی اور انتظامیہ کے لیے سیاسی حمایت پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں خصوصاً سینیٹ میں معمولی اکثریت ہونے کی صورت میں چند ریاستوں کے نتائج پورے ایوان کا سیاسی توازن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

امریکی وسط مدتی انتخابات نومبر 2026 میں ہوں گے جبکہ سینیٹ کے ساتھ ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں پر الیکشن ہوگا جہاں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہے ‘اب تک سامنے آنے والے عوامی جائزوں کے مطابق صدرٹرمپ کی مقبولیت33فیصد سے بھی کم پر آچکی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جو وسط مدتی انتخابات پر اثراندازہوگی.

واشنگٹن کے سیاسی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے لیے برتری حاصل کرنا آسان ہوگا کیونکہ جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکی عوام حتی کہ ان کے حامی بھی سخت نالاں ہیںاس صورتحال میں ڈیموکریٹس کی جانب سے دومقبول ترین سابق صدوربل کلنٹن اور باراک اوبامہ کو انتخابی مہم چلانے کے لیے میدان میں اترے ہیں جبکہ سابق خاتون اول ہیلری کلنٹن اور مشل اوبامہ بھی انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہیں ‘دوسری جانب آزادحیثیت میں الیکشن جیتنے والے سینیٹربرنی سینڈرکے حالیہ ملک گیر دورے کا سیاسی فائدہ بھی ڈیموکریٹس کو پہنچے گا.