صومالیہ میں مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کریک ڈاؤن، متعدد زیرحراست

شارع فیصل پر وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاج، پولیس نے مظاہرین کا سامان اٹھا کر پھینک دیا، اہلخانہ کا زیرحراست افراد کی رہائی کا مطالبہ

پیر 7 ستمبر 2026 11:15

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 ستمبر2026ء) صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے پاکستانیوں کے اہلخانہ کے احتجاج پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ شارع فیصل پر وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے تھے، جہاں پولیس نے دھرنے پر بیٹھے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا جبکہ احتجاجی سامان بھی اٹھا کر پھینک دیا گیا۔

مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے، تاہم پولیس کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی، مبینہ لاٹھی چارج اور گرفتاریاں افسوسناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد حکومت کی توجہ صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی فوری بازیابی کی جانب مبذول کرانا ہے۔

(جاری ہے)

مظاہرین کے مطابق پولیس نے انہیں احتجاج ختم کرکے فوری طور پر جگہ خالی کرنے کا کہا اور گرفتاریوں کی دھمکیاں بھی دیں۔

اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کرے۔پولیس کارروائی کے بعد متاثرہ خاندان ٹیپو سلطان تھانے پہنچ گئے، جہاں انہوں نے زیرحراست مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ نے گزشتہ شب بھی وزارت خارجہ کے کراچی دفتر کے باہر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے کہا کہ ان کے پیارے صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے میں ہیں اور حکومت ان کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کرے۔اہلخانہ نے واضح کیا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دیتی اور مغوی پاکستانیوں کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، وہ اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔