پاکستانی کال سینٹر سے امریکا میں 70 کروڑ ڈالر سے زائد کا مبینہ فراڈ

بدھ 9 ستمبر 2026 17:24

پاکستانی کال سینٹر سے امریکا میں 70 کروڑ ڈالر سے زائد کا مبینہ فراڈ
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 ستمبر2026ء) امریکی حکام نے پاکستان میں قائم کال سینٹر کے ذریعے امریکی محکمہ صحت کے ساتھ 70 کروڑ ڈالر سے زائد کے مبینہ فراڈ کا انکشاف کرتے ہوئے 5 پاکستانی شہریوں کو نامزد کردیا۔امریکی حکام کے مطابق جنوری 2023ء سے اپریل 2025ء کے دوران مبینہ طور پر پاکستانی کال سینٹرز کے ذریعے امریکی شہریوں کے نام پر کووڈ ٹیسٹ کٹس، طبی آلات اور جینیاتی ٹیسٹوں سمیت مختلف طبی خدمات کے جعلی کلیمز جمع کرائے گئے۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق کیس میں عامل علی عارف، شہریار عارف، فضا فرید، فیضان سلیم اور رک چاولیا کو نامزد کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے پاکستان میں قائم ’’ہیلو انٹرنیشنل مارکیٹنگ سلوشنز‘‘ نامی کال سینٹر کے ذریعے مبینہ طور پر امریکی شہریوں کا حساس طبی اور شناختی ڈیٹا حاصل کیا۔

(جاری ہے)

تفتیشی حکام کے مطابق مبینہ فراڈ میں چوری شدہ معلومات، ہیکنگ اور جعلی ویب سائٹس سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے گئے، جبکہ امریکی شہریوں سے متعلق حاصل کردہ معلومات کو طبی سہولیات کے نام پر کلیمز جمع کرانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

حکام کے مطابق اس معاملے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے شہریوں کی آواز سے مشابہ جعلی رضامندی کی آڈیو ریکارڈنگز تیار کیں تاکہ طبی کلیمز کی منظوری حاصل کی جاسکے۔امریکی حکام نے کہا کہ مبینہ طور پر مجموعی طور پر 70 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے جعلی کلیمز جمع کرائے گئے، جس کے باعث اس کیس کو امریکا کے بڑے طبی شعبے سے متعلق فراڈ کیسز میں شمار کیا جارہا ہے۔

تفتیشی اداروں کے مطابق کیس کے بعض مرکزی ملزمان کے پاکستان یا متحدہ عرب امارات میں موجود ہونے یا روپوش ہونے کا امکان ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے بعد پاکستانی کال سینٹرز کے ذریعے بیرون ملک شہریوں کے ڈیٹا کے مبینہ غیرقانونی استعمال اور مصنوعی ذہانت کو فراڈ کے لیے استعمال کیے جانے کے معاملے نے بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم نامزد افراد کے خلاف عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونا ابھی باقی ہیں۔