تمباکو نوشی سے خواتین میں بانجھ پن کے امکان میں اضافہ، ڈبلیو ایچ او
یو این
جمعرات 10 ستمبر 2026
00:30
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والی خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے اور تولیدی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے تمباکو سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
ادارے نے تولیدی صحت پر تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ کئی دہائیوں پر محیط تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین میں تمباکو نوشی بانجھ پن کا باعث بنتی ہے جبکہ مردوں میں یہ سپرم کے معیار اور جنسی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔
تمباکو کے دھوئیں کا بالواسطہ پھیپھڑوں میں جانا بھی تولیدی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
(جاری ہے)
'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ انسداد تمباکو نوشی سے وابستہ ڈاکٹر کرسٹن شوٹے نے کہا ہے کہ حمل کی منصوبہ بندی کرنے والے لوگوں کو چاہیے کہ تمباکو نوشی ترک کریں اور اپنی صحت بہتر بنائیں۔
تولیدی نظام پر منفی اثرات
رپورٹ کے مطابق، ماضی میں سگریٹ نوشی کرنے والی لیکن اب اسے ترک کر چکی خواتین میں مسلسل سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کے مقابلے میں بانجھ پن کا خطرہ 25 فیصد کم ہوتا ہے۔
تاہم، ادارے نے واضح کیا ہے کہبانجھ پن کو صرف خواتین کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ 44 جائزوں پر مشتمل اس رپورٹ میں 60 ہزار سے زیادہ مردوں کی صحت کو بھی دیکھا گیا جس سے سامنے آیا کہ سگریٹ نوشی ان کے تولیدی نظام پر منفی طور سے اثرانداز ہوتی ہے جس میں مادہ تولید کے معیار میں کمی اور کئی طرح کے جنسی مسائل شامل ہیں۔
شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ نوش مردوں میں عضو تناسل کا تناؤ برقرار رکھنے میں دشواری، انزال کے مسائل اور اس سے متعلق دیگر مشکلات کا امکان زیادہ ہوتا ہے جن میں مادہ تولید میں سپرم کی عدم موجودگی اور سپرم کی حرکت میں کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔
بانجھ پن کے علاج کی ناکامی
رپورٹ کے مطابق، تمباکو نوشی سے بانجھ پن کے علاج کی کامیابی کے امکانات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ سگریٹ نوشی کامیاب علاج کے امکانات کو تقریباً نصف تک کم کر دیتی ہے۔
ای سگریٹ (ویپ)، حقے، بغیر دھوئیں والے تمباکو اور تمباکو یا نکوٹین کی دیگر نئی مصنوعات کے منفی اثرات بارے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔
یہ مصنوعات بھی تولیدی صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔'ڈبلیو ایچ او' نے خبردار کیا ہے کہ دوسروں کے چھوڑے ہوئے تمباکو کا دھواں خواتین میں بانجھ پن کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے اور اس سے ہر ماہ حمل ٹھہرنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
آگاہی پھیلانے کی ضرورت
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین حمل کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد اور جوڑوں کو تمباکو نوشی کے تولیدی صحت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات سے آگاہ کریں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو سگریٹ نوشی ترک کرنے میں سائنسی شواہد پر مبنی معاونت فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے تمام طبی مراکز اور صحت کی دیکھ بھال کے اداروں میں لوگوں کو معمول کے مطابق مختصر مگر موثر مشورہ دیا جانا چاہیے کہ وہ اس عادت کو ترک کر دیں۔
مزید اہم خبریں
-
ٹرمپ: ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہونے کی توقع، جوہری تنصیبات پر حملے کے امکانات برقرار
-
عمران خان سے اعلیٰ ترین سطح پربات چیت ہورہی ہے، اسی سال جیل سے باہر آ جائیں گے، بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن
-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت صحت کارڈ پلس پروگرام سے متعلق اہم اجلاس
-
پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ
-
پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حامی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری معاشی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان
-
پٹواریوں نے عوام پر ایک اور مہلک پیٹرول بم پھینک دیا، مونس الٰہی کی حکومت پر شدید تنقید
-
فون کو الٹا رکھنا بہتر یا سیدھا ماہرین نے اہم وجوہات بتادیں
-
مالک مکان نے کرایہ دار کی دو بیویوں کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال بارے تبادلہ خیال
-
عوام کی جیبوں پر ڈاکہ؛ صرف 3 دنوں میں پیٹرول 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر مہنگا
-
احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس
-
سعودی شہروں پر حوثی باغیوں کے حملے کے بعد پاکستان کی ایران کو سخت وارننگ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.