Live Updates

ٹرمپ: ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہونے کی توقع، جوہری تنصیبات پر حملے کے امکانات برقرار

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 10 ستمبر 2026 14:00

ٹرمپ: ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہونے کی توقع، جوہری تنصیبات ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) * ٹرمپ: ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہونے کی توقع، جوہری تنصیبات پر حملے کے امکانات برقرار


ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرم الیکشن) کے بعد ختم ہو جائے گی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اس کی جوہری تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور سمندری محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

(جاری ہے)

علاقائی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔ سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط میں جمعرات کو 24 گھنٹوں کے دوران چوتھی مرتبہ ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایران نواز حوثی باغیوں اور مخالف قوتوں کے درمیان جھڑپوں میں بھی شدت دیکھی گئی۔

توانائی کی عالمی منڈی بھی اس بحران سے متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہونے کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے عالمی سپلائی اور تجارتی راستوں کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنایا۔

تہران کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے پانچ ایرانی آئل ٹینکروں کو ڈبونے کے جواب میں کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان جوابی حملوں کا یہ سلسلہ مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے، جس سے قریب مستقبل میں جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے امکانات کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں بحری راستوں پر حملوں اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایرانی) زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکتے۔

وہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے بے چین ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔

بعد ازاں وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ مشیروں، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل ہیں، نے نجی طور پر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ یہ تنازع ان کی صدارتی مدت کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے، جو جنوری 2029 میں ختم ہو گی۔ تاہم روئٹرز اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں کر سکا۔

Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات