Live Updates

سعودی شہروں پر حوثی باغیوں کے حملے کے بعد پاکستان کی ایران کو سخت وارننگ

ایران اپنے یمنی حوثی اتحادیوں کو لگام دے بصورت دیگر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا باہمی سیکیورٹی و دفاعی معاہدہ عملی طور پر متحرک ہو سکتا ہے؛ ایران کو پاکستانی پیغام سے متعلق رائٹرز کی خبر

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 10 ستمبر 2026 11:04

سعودی شہروں پر حوثی باغیوں کے حملے کے بعد پاکستان کی ایران کو سخت وارننگ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 ستمبر 2026ء) حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدید تیزی کے بعد پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے یمنی حوثی اتحادیوں کو لگام دے بصورت دیگر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا باہمی سیکیورٹی و دفاعی معاہدہ عملی طور پر متحرک ہو سکتا ہے۔ عالمی نیوز ایجنسی رائیٹرز کے مطابق حوثیوں نے منگل کے روز سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کے ملٹری ایئربیس اور دیگر تیل تنصیبات پر حملہ کیا جس میں 73 افراد زخمی ہوئے، فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے آغاز کے بعد یہ سعودی عرب پر سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے، اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان نے تہران کو اہم پیغام پہنچایا ہے۔

سینئر علاقائی سفارت کار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ سعودی عرب پر حملے روکے جا سکیں، اس پر ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتے جب کہ ذرائع کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ تہران نے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے تیز کرنے اور اضافی فنڈز و ہتھیاروں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

(جاری ہے)

دوسری طرف پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں تینوں ممالک کا دفاعی بندوبست فعال ہو جائے گا، اگر کسی ایک ملک پر بھی جارحیت کی گئی تو اسے تینوں ممالک یعنی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر جارحیت تصور کیا جائے گا، اس میں کوئی ابہام یا شک نہیں ہے، جارحیت یا جنگ کا دائرہ کار سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں یہ معاہدہ حتمی طور پر آپریشنل ہو جائے گا۔

دفاعی ذرائع نے بتایا ہے کہ تینوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی افواج یمن کے اندر داخل نہیں ہوں گی بلکہ ہر قسم کا دفاعی و تلافیانہ اقدام صرف سعودی سرزمین سے ہی کیا جائے گا، پاکستانی فوج کا کردار محدود اور دفاعی ہوگا، جس کے تحت وہ سعودی حدود کے اندر رہتے ہوئے عسکری، فنی، زمینی اور فضائی معاونت فراہم کر سکتی ہے، مگر کسی غیر ملکی سرزمین پر جارحانہ جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گی۔
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات