جموں ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مارچ

جمعرات 10 ستمبر 2026 12:03

جموں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 ستمبر2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر ں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک پرامن احتجاجی مارچ نکالا اور اپنی خدمات کو مستقل کرنے اور طویل عرصے سے زیر التواءاجرتوں کی ادائیگی پر زور دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاج کا اہتمام ”آل ڈیلی ویجرز جموں و کشمیر سنگرش سمیتی“ نے کیا تھا۔

مارچ کی قیادت سمیتی کے صدر سنی کانت چب نے کی۔ احتجاجی ریلی پریس کلب جموں سے شروع ہو کر سٹی سینٹر پر اختتام پذیر ہوئی۔مظاہرین نے نعرے لگائے اور امتیازی سلوک کے خاتمے اور کارکنوں کے لیے کم از کم اجرت کے قانون کے فوری نفاذ، طویل عرصے سے کام کرنے والے یومیہ اجرت کے لیے جامع ریگولرائزیشن پالیسی اور تمام زیر التواءاجرتوں کی منظوری کا مطالبہ کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کام کی جگہوں پر مناسب حفاظتی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا اور حکام پر زور دیا کہ وہ وقتی کارروائی کے ساتھ ایک منظم میکانزم کے ذریعے کارکنوں کے مسائل کو حل کریں۔ سنی کانت چِب نے اس موقع پر کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے برسوں سے اپنے جائز حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔ انہوں نے کہا کہ اجرتوں کی بروقت ادائیگی، بہتر معاوضے اور ریگولرائزیشن کے حوالے سے منصفانہ پالیسی کو یقینی بنانے میں ناکامی مزدور طبقے کے تئیں حکام کی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے مسائل کے ازالے کے لیے فوری توجہ نہ دی گئی تو کمیٹی اپنی تحریک میں شدت لائے گی، جس میں مقبوضہ علاقے میں سرکاری پروگراموں کا مکمل بائیکاٹ بھی شامل ہے۔