فلسطینی صدارتی الیکشن قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے پہلے ہونا چاہیے،رہنما تحریک فتح

21میں فلسطینی انتخابات کا منسوخ ہونا فتح تحریک کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھا، جبریل الرجوب

جمعہ 11 ستمبر 2026 20:17

غزہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2026ء) تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے سیکرٹری جبریل الرجوب نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات وقت پر کرانے کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے زور دیا کہ صدارتی انتخابات قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے پہلے ہونے چاہئیں۔ جبریل الرجوب نے عرب ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ موجودہ فلسطینی اور علاقائی حالات میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانا ناممکن ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی فرمان جاری کرنے سے پہلے فلسطینی قومی ڈائیلاگ ہونا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کسی بھی انتخابی عمل کی طرف بڑھنے سے پہلے اتفاق رائے کی اہمیت پر زور دیا۔جبریل الرجوب نے 2021 میں طے شدہ فلسطینی انتخابات کی منسوخی کو فلسطینی قومی تحریک کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔

(جاری ہے)

جبریل الرجوب نے اس سے قبل مقبوضہ مغربی کنارے کے وسط میں واقع شہر رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 28 نومبر کو مقررہ وقت پر فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کو مسترد کر دیا تھا اور پہلے صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے صحافیوں سے کہا کوئی انتخابات نہیں ہیں، ہم انتخابات کے میکانزم پر اتفاق رائے کے لیے ایک جامع فلسطینی قومی ڈائیلاگ کے بعد ہی انتخابات کی طرف جائیں گے۔جبریل الرجوب کے مطابق صدارتی انتخابات کا انعقاد مسئلے کا ایک بڑا حصہ حل کرتا ہے اور یہ آسان اور کم خرچ ہے اور اتفاق رائے کے ذریعے کرایا جا سکتا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں آخری قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2006 میں ہوئے تھے جس میں حماس نے فتح پر برتری حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔

پہلے فتح غالب تھی۔ حماس کی اس جیت کے بعد دونوں تحریکوں کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے۔ 90 سالہ محمود عباس نے رواں سال جون میں قانون کے ذریعے ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس سے انہوں نے سابقہ عمومی انتخابی قانون میں ترمیم کی تھی اور کہا تھا کہ صدارتی انتخابات 2027 کے آغاز میں ہوں گے۔جبریل الرجوب نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سنجیدہ فہرستیں تشکیل نہ دیے جانے کی طرف بھی اشارہ کیا، خاص طور پر چونکہ نامزدگی کی مدت اسی ماہ 26 ستمبر سے شروع ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قومی وحدت اور اندرونی فلسطینی اصلاحات سے شروع ہونے والے فارمولے کی عدم موجودگی میں ہم اسی بند دائرے میں رہیں گے اور بغیر کسی نتیجے کے حرکت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انتخابات اقتدار تک پہنچنے کا ہمارا واحد طریقہ اور حکمت عملی کا حصہ رہنا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :