مدین ،بچی قتل، پہلی بار خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ

جمعہ 11 ستمبر 2026 20:00

مدین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2026ء) مدین کے علاقے میں دو روز قبل 9 سالہ معصوم بچی ایشمل کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے دلخراش واقعے کے خلاف شہریوں کے احتجاج میں مدین کی تاریخ میں پہلی بار خواتین بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں اور انصاف کے لیے بھرپور آواز بلند کی۔ پولیس کے مطابق ایشمل کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا، جس کے خلاف جمعی کے روزمدین میں خواتین، بچوں اور شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔

خواتین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور کتبے اٹھا رکھے تھے اور مطالبہ کیا کہ معصوم ایشمل اور اس کے خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کے ساتھ ایسے دلخراش واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جاسکتے، حکومت اور پولیس واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار ملزم سلطان محمد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دے تاکہ آئندہ کسی اور معصوم کو ایسے ظلم کا نشانہ نہ بننا پڑے۔

(جاری ہے)

خواتین اور شہریوں نے کہا کہ ایشمل صرف ایک خاندان کی بیٹی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بیٹی ہے، اس کے لیے انصاف کی آواز ہر گھر سے اٹھنی چاہیے، جبکہ مدین میں خواتین کا پہلی بار بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا اس امر کا واضح اظہار ہے کہ ایشمل کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پورا علاقہ متحد ہے۔

متعلقہ عنوان :