گندم کی ممکنہ قلت، نجی شعبے کو درآمد کی فوری اجازت دینے کا مطالبہ

حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم کی درآمد کیلئے ٹینڈر کھول دیا، موجودہ ضرورت پوری کرنے کیلئے مزید گندم درآمد کرنا ہوگی، سیریل ایسوسی ایشن

جمعرات 17 ستمبر 2026 12:25

گندم کی ممکنہ قلت، نجی شعبے کو درآمد کی فوری اجازت دینے کا مطالبہ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 ستمبر2026ء) سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان نے ملک میں گندم کی ممکنہ قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشے کے پیش نظر حکومت سے نجی شعبے کو فوری طور پر گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کیلئے ٹینڈر کھولا، جس میں 9 بین الاقوامی کمپنیوں نے حصہ لیا۔

مجموعی طور پر 6 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن گندم کیلئے پیشکشیں موصول ہوئیں، جن کی قیمتیں 348.83 سے 369.95 ڈالر فی میٹرک ٹن کے درمیان رہیں۔سیریل ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم ملک کی مجموعی ضرورت پوری کرنے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔

(جاری ہے)

پاکستان کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 4 کروڑ میٹرک ٹن ہے، اس لیے قلت سے بچنے اور مقامی مارکیٹ میں وافر دستیابی یقینی بنانے کیلئے مزید گندم کی فراہمی ضروری ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی منڈی میں اس وقت گندم تقریباً 320 سے 325 ڈالر فی میٹرک ٹن میں دستیاب ہے۔ مال برداری، مقامی اخراجات اور درآمد سے متعلق دیگر اخراجات شامل کرنے کے باوجود نجی شعبہ تقریباً 100 سے 101 روپے فی کلوگرام کے حساب سے گندم فراہم کرسکتا ہے۔ایسوسی ایشن نے بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت پہلے ہی تقریباً 125 سے 130 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں گندم کی قیمت تقریباً 140 روپے فی کلوگرام ہے۔

سیریل ایسوسی ایشن نے کہا کہ موجودہ صوبائی کوٹہ نظام گندم کی ممکنہ قلت دور کرنے کیلئے کافی نہیں، نجی شعبے کو گندم درآمد کرکے بڑی مقدار میں اوپن مارکیٹ میں فراہم کرنے کی اجازت دینے سے رسد میں اضافہ اور قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ نجی شعبے کو درآمد کی اجازت دینے میں تاخیر سے گندم کی قلت اور مارکیٹ کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

حکومت کی موجودہ درآمدی خریداری ملک کی مجموعی ضرورت کے ایک حصے کو ہی پورا کرے گی، اس لیے مناسب ذخائر اور بلاتعطل فراہمی کیلئے نجی شعبے کی فوری شمولیت ضروری ہے۔سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی و چیئرمین مزمل رؤف چپل نے حکومت اور متعلقہ قائمہ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ نجی شعبے کو فوری طور پر گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ بروقت ذخائر قائم کیے جاسکیں، ممکنہ قلت سے بچا جاسکے اور صارفین کو قیمتوں میں مزید اضافے سے تحفظ مل سکے۔