ہیگزویلنٹ ویکسین کی طرف منتقلی پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے،وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

جمعرات 17 ستمبر 2026 13:27

ہیگزویلنٹ ویکسین کی طرف منتقلی پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت بین الادارہ جاتی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کرانے کی منظوری دی گئی اجلاس میں متعلقہ صوبائی حکام سے مشاورت اور گاوی کے ساتھ اتفاقِ رائے کے بعد ہیگزویلنٹ ویکسین کو قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین کی طرف منتقلی پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 14 ماہ سے گاوی اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہیگزویلنٹ ویکسین تک رسائی کے لیے مسلسل کوششیں جاری تھیں۔

(جاری ہے)

ہیگزویلنٹ ویکسین سے بچوں کو چھ بیماریوں سے تحفظ فراہم ہوگا جبکہ بچوں کو کم انجیکشن لگیں گے، جس سے انہیں کم تکلیف ہوگی اور والدین کے اعتماد اور تعاون میں بھی بہتری آئے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین کی شمولیت سے حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام مزید مؤثر ہوگا اور ویکسین کی دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام سے بچوں میں ویکسینیشن کے تحفظ کے خلا کو کم کرنے اور ویکسینیشن کوریج بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے گاوی، گلوبل فنڈ، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسیف، گیٹس فاؤنڈیشن اور دیگر شراکت داروں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مجوزہ شیڈول کے مطابق بچوں کو ہیگزویلنٹ ویکسین 6، 10 اور 14 ہفتے کی عمر میں دی جائے گی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین کی جانب منتقلی کی نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کی جانب سے بھی توثیق کی جا چکی ہے۔یونیسف، گاوی اور عالمی ادارہ صحت نے ہیگزویلنٹ ویکسین کی منتقلی کے لیے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے عزم اور قیادت کو سراہا۔