کم کارڈیشین کو پیرس میں مسلح ڈکیتی کا نشانہ بننے کے کیس میں عدالت کا بطور ہرجانہ صرف ایک یورو دینے کا حکم

جمعرات 17 ستمبر 2026 22:39

کم کارڈیشین کو پیرس میں مسلح ڈکیتی کا نشانہ بننے کے کیس میں عدالت کا ..
نیو یارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 ستمبر2026ء) امریکی ماڈل و کاروباری شخصیت کم کارڈیشین کو 2016 میں پیرس میں مسلح ڈکیتی کا نشانہ بننے کے کیس میں عدالت نے بطور ہرجانہ صرف ایک یورو دینے کا حکم دے دیا۔پیرس کی عدالت نے گزشتہ برس ڈکیتی میں ملوث 8 افراد کو قصوروار قرار دیا تھا۔ کم کارڈیشین نے عدالت کے فیصلے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان کی زندگی کا سب سے خوفناک تجربہ تھا جس کے اثرات آج بھی ان کی اور ان کے خاندان کی زندگی پر موجود ہیں۔

عدالت کی جانب سے دیا گیا ایک یورو وہی رقم ہے جس کا کم کارڈیشین نے بطور ہرجانہ مطالبہ کیا تھا۔ ان کے ساتھ ڈکیتی کے وقت موجود اسٹائلسٹ سیمون ہاروچ کو بھی ایک یورو ہرجانہ دیا گیا۔واقعے کے دوران پولیس کا روپ دھارے دو ڈاکو کم کارڈیشین کے ہوٹل سوئٹ میں داخل ہوئے، انہیں زِپ ٹائیز اور ٹیپ سے باندھ دیا اور 60 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے۔

(جاری ہے)

لوٹے گئے زیورات میں ایک ہیرے کی انگوٹھی بھی شامل تھی جو کم کارڈیشین نے اسی رات ایک فیشن شو میں شرکت کے لیے پہن رکھی تھی۔اس واردات میں ملوث افراد کو فرانس میں ’’دادا ڈاکو‘‘ کے نام سے جانا گیا، کیونکہ ملزمان میں سے 6 کی عمریں مقدمے کے دوران 60 اور 70 برس کے درمیان تھیں۔عدالت نے ہوٹل کے ایک سابق ریسپشنسٹ کو 109,516 یورو جبکہ ہوٹل انتظامیہ کو 50 ہزار یورو ہرجانہ دینے کا بھی حکم دیا۔

ریسپشنسٹ نے واردات کے بعد شدید ذہنی صدمے کا سامنا کرنے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے 5 لاکھ 50 ہزار یورو ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد کم کارڈیشین اور سیمون ہاروچ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ واقعہ انتہائی تکلیف دہ تھا، تاہم عدالت کا فیصلہ صرف معاوضے سے متعلق نہیں بلکہ ذمہ داری کے تعین اور انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔واضح رہے کہ ملزمان پہلے ہی جیل میں زیرِ حراست رہ چکے تھے، اس لیے قصوروار قرار دیے جانے کے باوجود کسی کو دوبارہ جیل نہیں بھیجا گیا۔ کسی بھی ملزم نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہیں کی۔