سموگ کے خاتمے کیلئے فیصل آباد ڈویژن میں سموگ وار روم قائم، 7 اہم اقدامات پر خصوصی توجہ کا فیصلہ

اتوار 20 ستمبر 2026 20:18

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2026ء) ڈپٹی کمشنر آفس کے ضلعی ایمرجنسی آپریشن سنٹر میں "سموگ وار روم فیصل آباد ڈویژن" قائم کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد سموگ اور فضائی آلودگی کا باعث بننے والے عناصر کے خلاف متعلقہ محکموں کو بروقت متحرک کرتے ہوئے مؤثر کارروائیاں یقینی بنانا اور آئندہ سموگ سیزن کے دوران سموگ فری فیصل آباد کے ہدف کو حاصل کرنا ہے۔

کمشنر فیصل آباد ڈویژن ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے سموگ وار روم کا دورہ کیا اور ڈپٹی کمشنر سمیت متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ سموگ کے سدباب کے لیے تمام متعلقہ محکمے ذمہ دارانہ انداز میں اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں اور سموگ کا باعث بننے والے عناصر کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کی جائے۔

(جاری ہے)

کمشنر نے کہا کہ فیکٹریوں، کارخانوں اور اینٹوں کے بھٹوں سے کالا دھواں خارج ہونے کی شکایات پر فوری ایکشن لیا جائے جبکہ فضائی آلودگی اور سموگ کا موجب بننے والے دیگر عناصر کے خاتمے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں سموگ اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے 7 اہم نکات پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔کمشنر ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے ہدایت کی کہ صنعتوں اور انسینریٹرز پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی لائیو فیڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے سسٹم سے منسلک کی جائے تاکہ کالے دھوئیں کے اخراج کا فوری پتہ چلایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 30 ستمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن کے بعد احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے والے متعلقہ یونٹ کو بند کر دیا جائے گا۔انہوں نے زیر تعمیر سڑکوں اور عمارتوں کے منصوبوں پر سموگ اور گردوغبار سے بچاؤ کے لیے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ زیر تعمیر میٹرو بس روٹ کے ساتھ پانی کے چھڑکاؤ کی مانیٹرنگ روٹ پر موجود کمرشل مارکیٹس کے تاجروں کے تعاون سے کی جائے گی۔

کمشنر نے ریت سے لدی ٹرالیوں کے لیے بھی ایس او پیز پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ ٹریفک پولیس اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی فورس کی تعیناتی کا حتمی پلان تیار کیا جائے۔ مقررہ ڈیڈ لائن کے بعد بغیر ڈھکی ریت کی ٹرالیز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند اور قبضے میں لیا جائے۔اجلاس میں شادی ہالز اور کمرشل کچنز میں 100 فیصد سکشن ہڈز کی تنصیب لازمی قرار دی گئی، جس کی ڈیڈ لائن 10 اکتوبر 2026ء مقرر کی گئی ہے۔

مقررہ تاریخ کے بعد بغیر سکشن ہڈ والے کچنز کو سیل کرنے کی ہدایت کی گئی۔اسی طرح سرکاری و نجی تمام بسوں کے لیے وہیکل انسپکشن سرٹیفیکیشن سسٹم اسٹیشن سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 15 اکتوبر 2026ء کے بعد بغیر سرٹیفیکیشن چلنے والی بسوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند اور قبضے میں لیا جائے گا۔کمشنر نے غیر قانونی چربی پگھلانے کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ 10 اکتوبر کے بعد ایسے تمام یونٹس کی غیر قانونی تعمیرات مسمار کر دی جائیں۔

انہوں نے فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے کے ساتھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے واٹر باؤزرز نصب کیے جائیں اور کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کے لیے مؤثر آگاہی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔کمشنر فیصل آباد ڈویژن نے مزید ہدایت کی کہ چاروں اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (انفورسمنٹ) انسدادِ سموگ پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کریں اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی ٹیموں کو سو فیصد معاونت فراہم کی جائے تاکہ سموگ کا باعث بننے والے عناصر کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ محکموں کی مربوط کاوشوں، مؤثر نگرانی اور بروقت انفورسمنٹ کے ذریعے فضائی آلودگی پر قابو پانے اور آئندہ سموگ سیزن میں شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔