کسی سرکاری ملازم کا سروس بینیفٹ محکمے کی انتظامی غفلت، تاخیر یا عدم کارروائی کے باعث موخر ہو تو ملازم کو اس کا نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت

پیر 21 ستمبر 2026 18:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 ستمبر2026ء) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کا سروس بینیفٹ محکمے کی انتظامی غفلت، تاخیر یا عدم کارروائی کے باعث موخر ہو تو ملازم کو اس کا نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، محکمہ اپنی ہی غلطی یا تاخیر سے قانونی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی جانب سے ڈاکٹر منیر احمد ملک کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے انسنٹیو الائونس کی ادائیگی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے سنایا۔

تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق، جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 20 اگست 2026ء کو کیس کی سماعت کی جبکہ فیصلہ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے تحریر کیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے قرار دیا کہ ڈاکٹر منیر احمد ملک 15 جولائی 2019ء سے 22 فروری 2021ء تک پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر خدمات انجام دیتے رہے اور اس عہدے کے ساتھ منسلک انسنٹیو الائونس کے حقدار تھے۔

متعلقہ سلیکشن بورڈ نے 19 مارچ 2021ء کو انہیں ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے انسنٹیو الائونس دینے کی منظوری بھی دی۔عدالت نے کہا کہ سلیکشن بورڈ کا اجلاس 19 مارچ 2021ء کو بلایا جانا ملازم کے اختیار میں نہیں تھا، اس لیے انتظامی تاخیر کی بنیاد پر اسے الائونس کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ملازم نے متعلقہ عہدے پر فرائض انجام دیئے اور بعد ازاں مجاز سلیکشن بورڈ نے بھی الائونس کی منظوری دے دی، لہٰذا اس کی ادائیگی روکنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ملازم کو ایسے واقعے یا انتظامی تاخیر کی سزا نہیں دی جا سکتی جو مکمل طور پر اس کے اختیار سے باہر ہو۔ محکمہ اپنی کوتاہی یا تاخیر کا فائدہ اٹھا کر ملازم کو اس کے جائز حق سے محروم نہیں کر سکتا۔عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پنجاب حکومت کی درخواست خارج کر دی اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار محض اس بنیاد پر ختم نہیں ہو جاتا کہ معاملہ شرائط ملازمت سے متعلق ہے۔ جہاں معاملہ لازمی قانونی قواعد کے نفاذ یا انتظامی اقدام کی قانونی حیثیت سے متعلق ہو، وہاں ہائی کورٹ آئینی اختیار استعمال کر سکتی ہے۔