حکومت کا پی ٹی آئی احتجاج کیخلاف ردِعمل غیرمعمولی ہے، لگتا ہے اس ری ایکشن کے پسِ پردہ کوئی کہانی ہے، سہیل وڑائچ

حکومتی خدشات کے مقابلے میں دھرنے کو روکنے کی تیاریاں بہت سخت ہورہی ہیں، یہ مستقل طور پر احتجاجی دھرنوں کو روکنے کی وجہ بھی ہوسکتی ہے، تجزیہ کار سہیل وڑائچ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 21 ستمبر 2026 22:23

حکومت کا پی ٹی آئی احتجاج کیخلاف ردِعمل غیرمعمولی ہے، لگتا ہے اس ری ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 21 ستمبر 2026ء ) تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حکومت کا پی ٹی آئی احتجاج کیخلاف ردِعمل غیرمعمولی ہے، لگتا ہے اس ری ایکشن کے پیچھے کوئی پسِ پردہ کہانی ہے
حکومت کو جو خدشات ہیں، اس کے مقابلے میں دھرنے کو روکنے کی تیاریاں بہت سخت ہورہی ہیں۔ جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا تعلق بیانات سے کم اور موجودہ رجیم کی پالیسی سے زیادہ ہے، 26نومبر کا جو واقعہ ہوا تھا، اس وقت جو بیانات آئے تھے اس میں یہی کہا گیا تھا کہ اگر کسی نے اسلام آباد کی طرف آنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور نہیں آنے دیا جائے گا،یہ جوموجودہ سیٹ اپ ہے، اس نے جو پہلے سڑکیں بند کرنے اور دھرنے کا طریقہ تھااس کیخلاف بڑا سخت رویہ رکھا ہے۔

(جاری ہے)

آپ دیکھ لیں کہ کشمیر میں کتنے دنوں سے دھرنا قائم ہے وہاں ایک ہی بات ہورہی ہے کہ پہلے دھرنا ختم کریں پھر آپ کی بات سنیں گے۔ ایک مثال ہے کہ ٹی ایل پی نے جس طرح اسلام آباد جانے کی کوشش کی، اور ان کو جس سختی سے روکا گیا، اس شدت پسند گروپ کے ساتھ تو ایسی چیز ہوگئی اس کی ہوسکتا ہے کچھ وجوہات بھی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے عجیب وغریب محسوس ہورہا ہے، پی ٹی آئی کے دھرنے سے جو توقعات ہیں، ردعمل اس سے کہیں زیادہ ہے، گنڈا پور کے جلوس 30ہزار تک ہوتے تھے لیکن اس وقت جو جائزہ لیا جارہا ہے، کہ اتنے لوگ نہیں ہوں گے، لیکن دھرنے کو روکنے کی تیاریاں بہت سخت ہورہی ہیں، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے حکومت کے اقدامات کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں، پہلی کہ مستقل احتجاجی دھرنوں کو روکنے کا بندوبست کیا جائے گا، دوسری کہ حکومت کا ردعمل غیرمعمولی ہے، ہوسکتا ہے پی ٹی آئی سے کچھ بات منوانے کی کوشش ہو، اس کے پس پردہ مجھے کوئی کہانی لگتی ہے۔

 دوسری جانب حکومت نے خیبر پختونخواہ سے اسلام آباد آنے والے پی ٹی آئی مظاہرین کو روکنے کیلئے حکمت عملی تیارکی ہے، جس کے تحت خیبر پختونخواہ سے اسلام آباد آنے والی شاہراؤں پر خندقین کھودنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر احتجاجی مظاہرین کو روکنے کیلئے خندقین کھودی جائیں گی۔ 26نمبر چونگی، پیرودھائی، آئی جی پی روڈ اسوال روڈ ، کٹی پہاڑی پر خندقین کھودی جائیں گی۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ سے اسلام آباد آنے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔خندقین کھودنے کیلئے مزدوروں کو بلا لیا گیا ہے، جبکہ مٹی کی بوریاں بھی جمع کی جارہی ہیں،مٹی کی بوریوں کو کنٹینرز میں رکھا جائے گا۔