خیبرپختونخوا اسمبلی کی صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی مذمت‘پولیس کے اختیارات میں کمی کی تجویز

پیغام دیا جارہا ہے صوبائی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں مخصوص طبقے پیغام دے رہے ہیں. صوبائی وزیرقانون آفتاب عالم کی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 21 ستمبر 2026 22:40

خیبرپختونخوا اسمبلی کی صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی مذمت‘پولیس ..
پشاور(اردوپوا ئنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 ستمبر ۔2026 ) خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اغوا قرار دیا اور پولیس کو مورود الزام ٹھہراتے ہوئے اختیارات کم کرنے کا عندیہ دے دیا رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شریک ہوئے.

(جاری ہے)

سپیکربابر سلیم سواتی نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے ناخوشگوار واقعات پیش آرہے جبکہ کوہاٹ میں دھماکہ ہوا جس میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے سپیکر نے کوہاٹ دھماکے میں شہداءکے لیے فاتحہ خوانی کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ دو روز سے اس صوبے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ موجود ہونے کے باوجود گرفتاری کے نام پر اغوا کی وارداتیں ہورہی ہیں، قانون ہونے کے باوجود یہ واقعات ہورہے ہیں.

بابر سلیم سواتی نے کہا کہ صوبائی وزیر شکیل خان کو اغواءکرنے کی کوشش کی گئی جبکہ صوبائی وزیر فضل شکور کو اغوا کیا گیا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ شکیل خان پر 324 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ فضل شکور کو اغواءکیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایم پی اے زاہد اللہ کے بیٹے کو اغواءکر لیا گیا ہے جبکہ صوبائی وزیر عارف احمد زئی کے سیکرٹری اور گارڈ کو اغوا کیا گیا ہے.

وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں پیغام دیا جارہا ہے کہ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں مخصوص طبقے پیغام دے رہے ہیں آپ حقیقی آزادی حاصل نہیں کرسکتے، ہمارا بھی پیغام ہے ہم 27 ستمبر کو حقیقی آزادی کے لیے نکلیں گے، 2017 میں پولیس کو اختیارات دیے ہر سال اضافی بجٹ دیتے ہیں. وزیرقانون نے کہا کہ وزیراعلی نے صوبائی وزراءکے خلاف مقدمات کی آئی جی سے رپورٹ مانگی ہے، ایک ایک واقعے کی ہم پر 8 ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جبکہ ہماری حکومت آئی تو فیصلہ کیا کہ کسی کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کریں گے وزیر قانون نے کہا کہ شہداءکا پیکج چالیس لاکھ سے ایک کروڑ دس لاکھ روپے کیا،ساری کوتاہیوں اور کمی کے باوجود ہم نے کوئی کارروائی نہیں کی، اس کے باوجود پولیس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی پھر مجبور ہوں گے سخت کاروائی ہو، پورے ایوان کا مطالبہ ہوگا پولیس کے اختیارات کم کیے جائیں اور سخت سزائیں تجویز کی جائیں.

انہوں نے کہا کہ تھانوں کو فنڈز مختلف طریقوں سے جاتے تھے لیکن ہم نے خصوصی اور محکمہ خزانہ سے براہ راست فنڈز جاری کیے، اگر پولیس کا یہی سلوک رہا تو پھر اختیارات کی کمی کے بارے میں سوچیں گے ایوان میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا پہنچے تو سپیکر نے کہا کہ چیف سیکرٹری، آئی جی، جج صاحبان، پولیس افسران، ڈی سی کو اسمبلی کے رولز بھجوائے ہیں، تمام معاملات آئین کے تحت چلتے ہیں رولز بھی آئین کے تحت بنے پیں اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا، جو رولز کی خلاف ورزی کرے گا سزائیں بھی ملیں گی.

اسپیکر نے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی ویڈیو چلا دی اور کہا کہ ویڈیو میں دیکھیں ایک صوبائی وزیر کو کیسے گرفتار کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ کوئی مقدمہ ہے کیس ہے تو ایک پولیس اہلکار بھی گرفتار کرسکتا ہے، کسی کو غیر قانونی حکم نہیں ماننا چاہیے اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری سے توقع رکھتا ہوں ڈیوٹی اپنے حلف کے مطابق ادا کریں گے، آپ بچے‘ خواتین اغواءکریں گے تو نفرتیں بڑھیں گی اور انقلاب کی طرف باتیں جاتی ہیں، چیزیں ٹھیک کریں بیٹھ کر بات کریں بندوق سے معاملات ٹھیک نہیں ہوتے.