کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کا اجلاس؛ اہم قانونی و ریگولیٹری ترامیم کی منظوری

جمعہ 25 ستمبر 2026 16:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2026ء) کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کے اجلاس میں اہم قانونی و ریگولیٹری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ۔وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویڑنز کی جانب سے پیش کردہ قانونی و ریگولیٹری ترامیم اور قواعد کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اوگرا فیس اینڈ چارجز رولز کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ مجوزہ ترامیم کا مقصد اوگرا کے زیر انتظام مختلف ریگولیٹری خدمات اور لائسنسنگ سے متعلق فیسوں اور چارجز کے نظام کو موجودہ ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔کمیٹی نے جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم کی مشروط منظوری دے دی۔

(جاری ہے)

منظوری کو مسودے میں کمیٹی کی سفارشات اور تجاویز شامل کرنے سے مشروط قرار دیا گیا۔

کمیٹی نے پاکستان کوسٹ گارڈز ایکٹ 1973 میں ترمیم کی منظوری بھی دیدی جس کا مقصد ریجیمنٹل فنڈ کے قواعد و ضوابط کو باقاعدہ قانونی فریم ورک فراہم کرنا اور اس کے انتظام و آپریشن کے لیے قواعد مرتب کرنا ہے۔کمیٹی نے ڈرگز (ریسرچ) رولز 1978 میں مجوزہ ترمیم کی بھی منظوری دے دی۔ مجوزہ ترمیم کے تحت مرکزی تحقیقی فنڈ سے عالمی معیار کی تحقیقی و لیبارٹری سہولیات کے قیام، بہتری اور اپ گریڈیشن کے لیے مطلوبہ قانونی گنجائش فراہم کی جائے گی۔ایف آئی اے ایکٹ 1974 میں مجوزہ ترامیم اور امیگریشن رولز 1979 میں ترامیم کے معاملے پر غور مؤخر کر دیا گیا، جبکہ ڈرافٹ پیمرا رولز 2025 کا ایجنڈا کمیٹی سے واپس لے لیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، ڈویڑنز اور سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔