مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے خطے کے مسائل کا علاقائی حل تلاش کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے، طیب رجب اردوان

عالمی فیصلوں میں 5ممالک کی اجارہ داری غیر منصفانہ ہے،غزہ جنگ رکوانا کافی نہیں، تعمیر نو، دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانت ،فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے، ترک صدر

جمعہ 25 ستمبر 2026 21:15

نیو یارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2026ء) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے درست سمت میں ایک مضبوط قدم ہے، اتحاد کے ذریعے علاقائی مسائل کے علاقائی حل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اتنے حساس اور پیچیدہ خطے میں اس نوعیت کا اہم اقدام سامنے آئے تو مختلف آزمائشوں کا سامنا ہونا فطری ہے۔

نئی سوچ اور نئی سیاسی قوتِ ارادی سے بعض حلقے ضرور پریشان ہوں گے، تاہم ترکیہ ایک تجربہ کار ریاست ہے، جو نہ اشتعال میں آئے گی اور نہ کسی جال میں پھنسے گی۔انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی ادارہ جاتی تشکیل کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

(جاری ہے)

بیرونی طاقتوں کی جانب سے خطے کیلئے سیکیورٹی کے فارمولے مسلط کرنے کے نتیجے میں اکثر زیادہ عدم استحکام پیدا ہوا ہے، اس لئے اب خطے کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل میں خود آگے آنا ہوگا۔

صدر اردوان نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے خطے کے مسائل کا علاقائی حل تلاش کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اتحاد کی بنیاد مستقبل میں مزید مضبوط اور موثر تعاون کی صورت اختیار کریگی،ترکیہ کو اپنی قوم اور اپنے برادر ممالک پر مکمل اعتماد ہے۔اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے صدر اردوان نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں 190سے زائد ممالک کی رائے صرف پانچ ممالک کے ویٹو اختیار سے محدود ہو جاتی ہے، ان کے مطابق ایسے غیر منصفانہ نظام کے ذریعے عالمی امن و استحکام کا موثر تحفظ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی نظام میں ویٹو کا موجودہ طریقہ کار ختم ہونا چاہئے اور ایسا نظام قائم کیا جانا چاہیے جو تمام رکن ممالک کو زیادہ منصفانہ نمائندگی فراہم کرے۔ جنرل اسمبلی کو بھی زیادہ بااختیار اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فیصلوں میں صرف 5ممالک کی اجارہ داری کی بجائے تمام خطوں، خصوصا افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور اسلامی دنیا کو اپنی آواز اور تجربے کے ساتھ مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔

غزہ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ خونریزی روکنے، جنگ بندی کو مستقل بنانے اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر باوقار مستقبل فراہم کیے بغیر مشرق وسطی میں پائیدار امن ممکن نہیں، صرف جنگ رکوانا کافی نہیں، بلکہ غزہ کی تعمیر نو، جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانت اور فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ایف 35پروگرام میں ترکیہ کی واپسی کے حوالے سے اردوان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلے میں مثبت ارادے کا اظہار کیا ہے اور ترکیہ اب اس ارادے کو عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کے لیے مقامی صلاحیتوں کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور ان جنگی طیاروں سمیت اپنے جنگی طیارے، فضائی دفاعی نظام اور دفاعی صنعتی صلاحیتیں خود تیار کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ یورو فائٹر کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔