ایم نائن موٹروے اراضی تنازع، سندھ ہائیکورٹ نے درخواستیں نمٹا دیں

این ایچ اے کو حکومت سندھ کو رسمی ریفرنس بھیجنے کی ہدایت، مجاز اتھارٹی 45 روز میں تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کرے، فیصلے تک موجودہ اسٹیٹس برقرار رہے گا

ہفتہ 26 ستمبر 2026 03:05

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 ستمبر2026ء) سندھ ہائیکورٹ نے ایم نائن موٹروے کی زمین کی ملکیت، رائٹ آف وے، زمین کی الاٹمنٹ اور ٹول ٹیکس کی وصولی سے متعلق درخواستیں نمٹاتے ہوئے معاملہ حکومت سندھ کے مجاز حکام کو ارسال کردیا۔عدالت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ ای) کو ہدایت کی کہ وہ حکومت سندھ کو اس معاملے پر باقاعدہ رسمی ریفرنس بھیجے، جبکہ مجاز اتھارٹی کو حکم دیا کہ 45 روز کے اندر تمام فریقین کو سننے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مجاز اتھارٹی تمام فریقین، این ایچ اے اور متاثرہ افراد کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دے گی اور مکمل شفافیت کے ساتھ جامع حکم جاری کرے گی۔ مجاز اتھارٹی کے فیصلے تک ایم نائن موٹروے سے متعلق عدالت میں موجودہ اسٹیٹس برقرار رہے گا۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران این ایچ اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت سندھ نے 2012ئ میں موٹروے کے لیے زمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو لیز پر دی تھی، تاہم 2017ء میں لیز منسوخ کردی گئی جو قانون کے خلاف ہے۔

حکومت سندھ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ زمین بدستور صوبے کی ملکیت ہے اور این ایچ اے رسائی کے نام پر زمینیں فروخت کر رہی ہے، جبکہ اراضی کی منتقلی منسوخ کی جاچکی ہے۔ صوبائی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ زمین کی قیمت ادا کیے بغیر این ایچ اے ٹول ٹیکس وصول نہیں کرسکتی۔این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت سندھ موٹروے کو اپنی تحویل میں لے کر ٹول ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد معاملہ مجاز حکام کو بھیجتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں۔