مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے خطے کے مسائل کا علاقائی حل تلاش کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے، طیب رجب اردوان
عالمی فیصلوں میں 5ممالک کی اجارہ داری غیر منصفانہ ہے،غزہ جنگ رکوانا کافی نہیں، تعمیر نو، دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانت ،فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے، ترک صدر
ہفتہ 26 ستمبر 2026 03:35
(جاری ہے)
بیرونی طاقتوں کی جانب سے خطے کیلئے سیکیورٹی کے فارمولے مسلط کرنے کے نتیجے میں اکثر زیادہ عدم استحکام پیدا ہوا ہے، اس لئے اب خطے کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل میں خود آگے آنا ہوگا۔
صدر اردوان نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے خطے کے مسائل کا علاقائی حل تلاش کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اتحاد کی بنیاد مستقبل میں مزید مضبوط اور موثر تعاون کی صورت اختیار کریگی،ترکیہ کو اپنی قوم اور اپنے برادر ممالک پر مکمل اعتماد ہے۔اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے صدر اردوان نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں 190سے زائد ممالک کی رائے صرف پانچ ممالک کے ویٹو اختیار سے محدود ہو جاتی ہے، ان کے مطابق ایسے غیر منصفانہ نظام کے ذریعے عالمی امن و استحکام کا موثر تحفظ ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی نظام میں ویٹو کا موجودہ طریقہ کار ختم ہونا چاہئے اور ایسا نظام قائم کیا جانا چاہیے جو تمام رکن ممالک کو زیادہ منصفانہ نمائندگی فراہم کرے۔ جنرل اسمبلی کو بھی زیادہ بااختیار اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فیصلوں میں صرف 5ممالک کی اجارہ داری کی بجائے تمام خطوں، خصوصا افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور اسلامی دنیا کو اپنی آواز اور تجربے کے ساتھ مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔غزہ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ خونریزی روکنے، جنگ بندی کو مستقل بنانے اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر باوقار مستقبل فراہم کیے بغیر مشرق وسطی میں پائیدار امن ممکن نہیں، صرف جنگ رکوانا کافی نہیں، بلکہ غزہ کی تعمیر نو، جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانت اور فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ایف 35پروگرام میں ترکیہ کی واپسی کے حوالے سے اردوان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلے میں مثبت ارادے کا اظہار کیا ہے اور ترکیہ اب اس ارادے کو عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کے لیے مقامی صلاحیتوں کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور ان جنگی طیاروں سمیت اپنے جنگی طیارے، فضائی دفاعی نظام اور دفاعی صنعتی صلاحیتیں خود تیار کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ یورو فائٹر کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔مزید بین الاقوامی خبریں
-
چینی صدر اور ان کی اہلیہ کی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کی طرف سے دی گئی استقبالیہ ضیافت میں شرکت
-
ٹرمپ کے اسٹیٹ ڈنرمیں مسک، ٹم کک، سیم آلٹمین کی شی جن پنگ سے اہم ملاقات
-
امریکا ،1 ماہ کی بچی کو اوون میں ڈال کرمارنیوالی ماں کو 13 سال قید کی سزا
-
وارنٹ کے باوجود نیتن یاہو کا طیارہ حدود سے گزرنے دینا عالمی قانون کے مطابق ہے، فرانس
-
80 ممالک نے اقوامِ متحدہ میں آبنائے ہرمز کو فوری کھولنے کا مطالبہ کر دیا
-
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند اور خیریت سے ہیں،ایرانی صدر
-
بلقیس الفراج نےسعودی ایئرلائنز کی پہلی خاتون پائلٹ بنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا
-
سعودیہ پرحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اورپاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب
-
شمالی کوریا کا 240 ملی میٹر گائیڈڈ ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹم کا تجربہ
-
ایرانی صدرمسعود پزشکیان کی بنگلادیشی وزیرِ اعظم طارق رحمٰن سے ملاقات
-
ایرانی سفارتخانے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹرول کرنے کیلئے تیلگو فلم کا ایکشن سے بھرپور سین شیئر کر دیا
-
مکہ، جدہ اوردیگر سعودی شہروں کیلیے خطرے کا الرٹ جاری
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.