- جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے واقعات، درجنوں افراد ہلاک
- جرمن اور روسی وزرائے خارجہ کی ملاقات بے نتیجہ
جرمن اور روسی وزرائے خارجہ کی ملاقات بے نتیجہ
جرمنی اور روس کے وزرائے خارجہ نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات کی، 2022ء میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین سفارت کاروں کے درمیان یہ پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات کے دوران جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے روس پر زور دیا کہ وہ جرمنی، یورپ اور نیٹو اتحاد کے خلاف ’خطرناک کشیدگی‘کو ترک کرے۔ جرمن حکام کے مطابق واڈے فیہول نے واضح کیا کہ ماسکو کے ساتھ بہتر تعلقات ممکن ہیں، لیکن اس کے لیے روسی قیادت کو یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حقیقی آمادگی دکھانا ہو گی۔
(جاری ہے)
جرمن
خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق تقریباً 20 منٹ تک جاری رہنے والی یہ ملاقات روسی وفد کی جانب سے فراہم کردہ کمرے میں ہوئی اور اختتام پر دونوں وزرائے خارجہ نے مصافحہ کیا۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے کہا کہ اس گفتگو سے "کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی"۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روس اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں نئی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
جرمنی نے گزشتہ ماہ لائپزگ ہوائی اڈے پر مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کا الزام روس پر عائد کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جوابی سفارتی اقدامات اور بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔مبصرین کے مطابق اگرچہ اس ملاقات سے فوری سفارتی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا رہی تھی، تاہم کئی برسوں بعد براہِ راست رابطے کا یہ اقدام روس اور مغرب کے درمیان محدود سفارتی مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے واقعات، درجنوں افراد ہلاک
جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے جنوب مغرب میں واقع وڈیلا ٹاؤن شپ میں ہفتے کی شب مسلح افراد نے ایک بار میں اندھا دھند فائرنگ کر کے متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کر دیا۔ اس حملے میں اب تک 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کے پاس AK-47 رائفلیں اور پستولیں موجود تھیں۔
ایک مختلف واقعے میں کیپ ٹاؤن کے قریب واقع لوانڈلے کے علاقے میں اتوار کی صبح تقریباً ایک بجے ایک دکان پر فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان دونوں واقعات کے بارے میں مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں حملوں کے سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں واقعات میں ایک سے زائد مسلح افراد ملوث تھے، جن کی تلاش جاری ہے۔
دونوں خونریز واقعات ایسے وقت پر پیش آئے، جب چند روز قبل ہی مشرقی ساحلی شہر ڈربن کے قریب ایک گھر میں ہونے والی پارٹی پر فائرنگ کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔
جنوبی افریقہ میں حالیہ دنوں کے دوران اجتماعی فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ملک میں عوامی تحفظ اور اسلحے سے متعلق جرائم کے بارے میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے محرکات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔