شرم کا مقام ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ اب ان کی گاڑیوں کیلئے بھی ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے، اقرارالحسن

کیا شرجیل میمن لال قلعہ فتح کر کے آئے ہیں؟ یہ حکمران اتنا پیسا اکٹھا کررہے ہیں کہ اگر راستہ نہ روکا گیا تو آئندہ کئی نسلیں بھی ان کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکیں گی ، سربراہ عوام راج تحریک

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 28 ستمبر 2026 23:17

شرم کا مقام ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ اب ان کی گاڑیوں کیلئے بھی ریڈ کارپٹ ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 28 ستمبر 2026ء ) سربراہ عوام راج تحریک اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ شرم کا مقام ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ اب ان کی گاڑیوں کیلئے بھی ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے، کیا شرجیل میمن لال قلعہ فتح کر کے آئے ہیں؟ یہ حکمران اتنا پیسا اکٹھا کررہے ہیں کہ اگر راستہ نہ روکا گیا تو آئندہ کئی نسلیں بھی ان کے سامنے کھڑا نہیں۔

ایکس پر اپنے ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ پہلے حکمرانوں کیلئے ریڈکارپٹ بچھایا جاتا تھااب ان کی گاڑیوں کیلئے بھی ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ شرجیل میمن کی گاڑی کیلئے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا ہے ان موصوف کا کارنامہ کیا ہے؟ کیا یہ لال قلعہ فتح کر کے آئے ہیں،کیا انہوں نے ایفل ٹاور یا وائٹ ہاؤس پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا تھا؟کہ ان کی گاڑی کیلئے بھی ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ ریڈ کارپٹ سندھی لوگوں اور ہزاروں بچوں کے ارمانوں کا خون ہے، جو بچے سکول نہیں جا پاتے، ان ماؤں کا خون جو وقت پر ہسپتال نہیں پہنچ پاتی۔
ان مریضوں کا خون جو سڑکوں کے کھڈوں کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ ریڈ کارپٹ خون تھا اس فیملی کا ، جو مہنگائی غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئی۔

شرجیل میمن آج جس منصوبے کیلئے پہنچے تھے ویسے کئی منصوبے التوا کا شکار ہیں۔شرجیل میمن کے بیٹے جب لندن جاتے ہیں تو وہاں پر بھی سکیورٹی گارڈ کے ساتھ گھومتے ہیں اس لندن میں جہاں پر عرب حکمران اور شہزادے بھی بغیر سکیورٹی کے گھومتے ہیں۔یہ پیسا کس کا ہے۔عوام کا، یہ حکمران اتنا پیسا اکٹھا کررہے ہیں اگر ان ک اراستہ نہ روکا گیا تو آئندہ کئی نسلوں تک کوئی فرد ان کے نسلوں کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکے گا۔