خیبرپختونخواہ میں آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا بالآخر فیصلہ ہوگیا، کامران خان کا دعویٰ

اگر سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت غیرمشروط طور پر لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں تو پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل جاری رہ سکتا ہے؛ سینئر اینکرپرسن کی ایکس پوسٹ

Sajid Ali ساجد علی منگل 29 ستمبر 2026 16:54

خیبرپختونخواہ میں آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا بالآخر فیصلہ ہوگیا، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 ستمبر 2026ء) معروف اینکرپرسن اور سینئر تجزیہ کار کامران خان نے خیبر پختونخواہ کی سیاست اور صوبائی حکومت کے مستقبل سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بالآخر کے پی میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کو حکومت بچانے کا ایک آخری موقع بھی دے دیا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کامران خان نے لکھا کہ بالآخر فیصلہ ہو گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگایا جائے گا، تاہم صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل اب بھی جاری رہ سکتا ہے، اگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت تین اہم شرائط تسلیم کرلے۔

(جاری ہے)

کامران خان نے ریاست کی جانب سے رکھی گئی شرائط کی تفصیل بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت صرف اس صورت میں قائم رہ سکتی ہے اگر سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت غیر مشروط طور پر 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں۔

انہوں نے بتایا کہ دوسری شرط کے طور پر صوبے میں پولیس کے نظام میں تبدیلی کے مجوزہ متنازعہ قانون سے وزیراعلیٰ مکمل دستبردار ہو جائیں، تیسرا یہ کہ صوبے میں امن و امان کی ترجیحات وفاقی و ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگ کرلیں، اگر یہ تبدیلیاں تسلیم کرلی جائیں تو یہ پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان ایک نئے پرامن سفر کی بنیاد بن سکتی ہے۔