دہلی اسکول کی عمارت اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کا حکم برقرار

محکمہ تعلیم کو تجاویز کا جائزہ لے کر 28 اکتوبر کو جواب جمع کرانے کی ہدایت، 25 سال سے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کا مؤقف

منگل 29 ستمبر 2026 19:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 ستمبر2026ء) سندھ ہائیکورٹ میں دہلی گورنمنٹ اسکول کے قبضے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، سیکریٹری تعلیم زاہد علی عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے معاملے کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔بیرسٹر اسد نے مؤقف اختیار کیا کہ دہلی اسکول و کالج 4 بلاکس پر مشتمل تعلیمی کمپلیکس ہے، عدالت کے حکم پر بلاک سی اور ڈی کا قبضہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم بلاک سی کی عمارت پر محکمہ تعلیم نے دوبارہ قبضہ کرلیا۔

انہوں نے استدعا کی کہ بلاک سی اور ڈی مکمل طور پر ایسوسی ایشن کے حوالے کیے جائیں، اس سے نجی اور سرکاری اداروں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کے درمیان مقابلے کی فضا پیدا ہوگی۔

(جاری ہے)

عدالت نے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سیکریٹری تعلیم کو تجاویز کا جائزہ لے کر 28 اکتوبر کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔بیرسٹر اسد کے مطابق ہائیکورٹ نے 2000ء میں دہلی اینگلو عربک کالج اینڈ اسکول بوائز ایسوسی ایشن کے حق میں فیصلہ دیا تھا، تاہم عدالتی حکم کے باوجود گزشتہ 25 سال سے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ 2007ء میں بھی عمارت پر دوبارہ قبضہ کیا گیا تھا، اس لیے مزید مہلت نہیں دی جانی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2009ئ میں طلبہ کو 15 روز کے اندر دوسرے اسکول منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم 15 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود فیصلے پر عمل نہیں ہوا۔ عدالت نے طویل مقدمہ بازی اور عدالتی احکامات کا جائزہ لینے کے بعد اسکول کی عمارت اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کا حتمی حکم جاری کیا تھا۔