بھارت میں اسلامی مقدس مقامات اور تاریخی عبادت گاہوں کی مبینہ مسماری تشویشناک ہے،سردار مختاراحمد خان

بدھ 30 ستمبر 2026 16:57

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے حلقہ 3 سٹی سے منتخب ممبر قانون ساز اسمبلی سردار مختار احمد خان نے ہندوستان میں اسلامی مقدس مقامات اور تاریخی عبادت گاہوں کی مبینہ مسماری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی مقامات کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے نشانہ بنانا مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بھارت میں ہندوتوا پر مبنی اسلاموفوبک مہم کے باعث صدیوں پرانے اسلامی و ثقافتی ورثے اور عبادت گاہوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ہندوستان میں آپومجی، اجمیر شریف اور سہارنپور کلکٹریٹ مسجد سمیت متعدد تاریخی اسلامی مقامات کو اس مہم کا سامنا ہے۔سردار مختار احمد خان نے کہا کہ 1992 میں تاریخی بابری مسجد کی مسماری مذہبی عدم برداشت، تعصب اور نفرت پر مبنی سوچ کے نتیجے میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے کی یاد دلاتی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کا تحفظ ہر معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کو سیاسی یا مذہبی تعصب کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہندوتوا سے وابستہ سرگرمیوں میں مبینہ اضافے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول پر مسلم اُمہ کو اپنی خاموشی توڑنا ہوگی۔

اسلامی ممالک اور عالمی برادری کو مذہبی مقامات کے تحفظ، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کرنی چاہیے۔انہوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں مذہبی مقامات اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سامنے آنے والی شکایات کا شفاف جائزہ لیا جائے اور مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔