ایم ڈی کیٹ نتائج کا تنازع، 10 طلبہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے

/اصل سوالیہ پرچہ اور جوابی کلید ویب سائٹ پر جاری کرنے کا مطالبہ، حتمی میرٹ لسٹ اور داخلوں کا عمل روکنے کی استدعا

جمعرات 1 اکتوبر 2026 18:01

| کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 اکتوبر2026ء) سندھ میں ایم ڈی کیٹ امتحان اور نتائج کے حوالے سے تنازع شدت اختیار کرگیا، جس کے بعد 10 متاثرہ طلبہ نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔طلبہ کی جانب سے دائر درخواست میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، سکھر آئی بی اے اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سمیت 6 فریقین کو نامزد کیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل محمد نواز ڈاہری نے مؤقف اختیار کیا کہ 20 ستمبر کو منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ امتحان کے دوران امیدواروں کو صرف جوابی شیٹ کی کاربن کاپی فراہم کی گئی، جبکہ سوالیہ پرچہ اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔وکیل کے مطابق اصل سوالیہ پرچہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کے لیے جوابی کلید میں موجود سوالات یا جوابات پر مؤثر اعتراض اٹھانا ممکن نہیں۔

(جاری ہے)

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کا اصل سوالیہ پرچہ اور جوابی کلید تین روز کے اندر سرکاری ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ جب تک سوالیہ پرچہ عوام کے لیے دستیاب نہیں کیا جاتا، ایم ڈی کیٹ کی حتمی میرٹ فہرست جاری کرنے اور داخلوں کا عمل آگے بڑھانے سے روکا جائے۔وکیل محمد نواز ڈاہری کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے چند نمبروں کا فرق بھی امیدوار کے میرٹ اور مطلوبہ طبی ادارے میں داخلے پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے سوالیہ پرچہ جاری کیے بغیر میرٹ کے عمل سے متعلق تحفظات برقرار رہیں گے۔