فیکٹریوں میں انسانوں کے بعد روبوٹس کا راج، دنیا بھر میں تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی

فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد سالانہ بنیاد پر 9 فیصد بڑھی، چین نے صنعتی روبوٹس کی تنصیب میں نمایاں برتری برقرار رکھی چینی کمپنیوں نے صنعتی روبوٹ مارکیٹ کا 55 فیصد حصہ حاصل کیا،امریکہ 38 ہزار 500 نئے روبوٹس کی تنصیب کیساتھ دوسرے نمبر پر

پیر 5 اکتوبر 2026 11:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اکتوبر2026ء) مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور سپلائی چین کی تنظیم نو کے باعث دنیا بھر میں فیکٹری آٹومیشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، عالمی سطح پر فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد گزشتہ سال 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔بین الاقوامی فیڈریشن آف روبوٹکس کی رپورٹ کے مطابق فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد سالانہ بنیاد پر 9 فیصد بڑھی، جبکہ دنیا بھر میں نئے روبوٹس کی تنصیب 11 فیصد اضافے سے 6 لاکھ سے زیادہ یونٹس تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق چین نے صنعتی روبوٹس کی تنصیب میں نمایاں برتری برقرار رکھی، جہاں گزشتہ سال نئے روبوٹس کی تنصیب 20 فیصد اضافے سے 3 لاکھ 54 ہزار یونٹس رہی، جو دنیا بھر میں ہونے والی مجموعی تنصیبات کا 59 فیصد ہے۔چین میں مقامی کمپنیوں نے صنعتی روبوٹ مارکیٹ کا 55 فیصد حصہ حاصل کیا۔

(جاری ہے)

امریکہ 38 ہزار 500 نئے روبوٹس کی تنصیب کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگیا، جہاں سالانہ تنصیبات میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔

جاپان 36 ہزار 219 یونٹس کی تنصیب کے ساتھ 19 فیصد کمی کے بعد دوسرے سے تیسرے نمبر پر آگیا۔جنوبی کوریا 30 ہزار 200 روبوٹس کی سالانہ تنصیب کے ساتھ چوتھے اور جرمنی 24 ہزار 800 یونٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔ جرمنی میں تنصیبات میں 8 فیصد کمی ہوئی، جبکہ بھارت میں 15 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ہزار 500 روبوٹس نصب کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق جرمنی کی شرح نمو میں کمی آئی، تاہم یورپی یونین میں نصب کیے جانے والے تمام صنعتی روبوٹس میں اس کا حصہ 41 فیصد رہا۔

اٹلی، فرانس اور اسپین میں بھی صنعتی روبوٹس کی تنصیب میں کمی ریکارڈ کی گئی۔عالمی سطح پر صنعتی روبوٹس کی طلب آئندہ برسوں میں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال روبوٹس کی تنصیب 6 لاکھ 55 ہزار یونٹس جبکہ 2029 تک 8 لاکھ 6 ہزار یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ترکیہ گزشتہ سال عالمی صنعتی روبوٹ مارکیٹ میں 17ویں نمبر پر رہا، جہاں نئے روبوٹس کی تنصیب 9 فیصد کمی کے بعد 3 ہزار 194 یونٹس رہی۔

2023 میں ترکیہ میں 4 ہزار 429 روبوٹس کی ریکارڈ تنصیب ہوئی تھی۔تاہم ترکیہ میں فعال صنعتی روبوٹس کی مجموعی تعداد 7 فیصد اضافے سے ریکارڈ 30 ہزار 990 یونٹس تک پہنچ گئی، جس کے ساتھ ملک دنیا بھر میں صنعتی روبوٹس کے مجموعی بیڑے کے اعتبار سے 15ویں نمبر پر آگیا۔ترکیہ میں دھات کی صنعت صنعتی آٹومیشن کی سب سے بڑی خریدار رہی۔ اس شعبے میں روبوٹس کی تنصیب 8 فیصد اضافے سے 990 یونٹس ہوئی، جو ملک میں نئی تنصیبات کا 31 فیصد ہے، جبکہ اس شعبے میں فعال روبوٹس کی تعداد 6 ہزار 774 یونٹس رہی۔

ترکیہ کی آٹو موبائل صنعت میں روبوٹس کا فعال بیڑا 3 فیصد اضافے سے 11 ہزار 17 یونٹس ہوگیا، جبکہ 889 نئے روبوٹس نصب کیے گئے، جو نئی تنصیبات کا 28 فیصد ہیں۔رپورٹ کے مطابق دیگر شعبوں میں روبوٹس کی طلب کمزور رہی۔ الیکٹریکل اور الیکٹرانکس کے شعبے، جس میں گھریلو آلات اور برقی مشینری بھی شامل ہے، میں سالانہ روبوٹ تنصیبات 37 فیصد کمی سے 136 یونٹس رہیں۔

اسی طرح خوراک، مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات کے شعبے میں روبوٹس کی سالانہ تنصیب 40 فیصد کمی سے 144 یونٹس رہ گئی۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں نصب کیے جانے والے نئے روبوٹس میں 59 فیصد ہینڈلنگ آپریشنز اور مشین ٹینڈنگ کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ 16 فیصد روبوٹس ویلڈنگ اور سولڈرنگ کے کاموں کے لیے نصب کیے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مینوفیکچرنگ صنعت میں ہر 10 ہزار کارکنوں کے مقابلے میں صنعتی روبوٹس کی تعداد اب بھی کم، یعنی 52 یونٹس ہے۔ آٹو موبائل صنعت میں یہ شرح 374 روبوٹس فی 10 ہزار کارکن ہے، جبکہ دیگر صنعتوں میں روبوٹ کثافت 35 یونٹس فی 10 ہزار کارکن رہی۔