دنیا بھر میں دو کروڑ شیرخوار بنیادی نوعیت کی ویکسین سے محروم

دوکروڑ میں سی86 فی صد بچوں کو گذشتہ سال کے دوران بنیادی ویکسین نہیں پلائی جا سکی،عالمی ادارہ صحت

منگل اپریل 12:10

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل اپریل ء)عالمی ادارہ صحت کی طرف سے شیر خوار بچوں کی بنیادی ضرورت کی ویکسین سے متعلق جاری کردہ ایک رپورٹ میں لرزہ خیز اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں قریبا دو کروڑ شیر خوار بنیادی ویکسین سے محروم ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایک کروڑ 95 لاکھ شیر خوار ایسے ہیں جنہیں بنیاد نوعیت کی ویکسین دستیاب نہیں۔

ان میں سے 86 فی صد بچوں کو گذشتہ سال کے دوران بنیادی ویکسین نہیں پلائی جا سکی۔یہ رپورٹ عالمی ہفتہ امیونائزیشن کی مناسبت سے جاری کی گئی ہے۔ یہ مین 24 سے 30 اپریل تک پوری دنیا میں منائی جا رہی ہے جس میں بچوں کی بنیادی صحت اور ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی مہیا کی جائیگی۔

(جاری ہے)

اس مہم کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص پسماندہ علاقوں میں بچوں کی طبی ضروریات اور ان کے حصول کے طریقوں کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ ام یونائیزیشن صحت کے حوالے سے ایک فعال اور زیادہ کامیاب طبی ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ایک ڈالر جسے بچوں کی ویکسین پر خرچ کیا جاتا ہے اس کے بدلے میں اقتصادی اور سماجی شعبوں کو 44 ڈالر کا فایدہ پہنچتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ ڈاکٹر جواد المحجور کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کا شکار خطے کے کئی ممالک میں شیر خواروں کو بنیادی ویکسین کی فراہمی ایک مشکل مرحلہ ہے مگر ہم اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈائریا،تشنج اور کالی کھانسی کی تیسرے مرحلے کی ویکسین کا 80 فی صد کام مکمل ہوچکا ہے تاہم ابھی بہت سے دوسریامراض کے علاج کے لیے ویکیسینیشن پر کام کرنا باقی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments