منہاج یونورسٹی کے ہاسٹل میں احتجاج کرنے والی طالبات کا موقف سامنے آ گیا،انتظامیہ پر سنگین الزامات لگا دئیے

خرم نواز گنڈا پور رات کے 2 بجے لڑکیوں کے ہاسٹل میں گھس آئے اور لڑکیوں کے موبائل فون چیک کئیے، ہاسٹل انتظامیہ نے دھمکی کی دی کہ اگر بات میڈیا پر آئی تو لڑکیوں کی نازیبا تصاویر وائرل کردیں گے،لڑکیوں کا موقف

ہفتہ مئی 23:33

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء):منہاج یونورسٹی کے ہاسٹل میں احتجاج کرنے والی طالبات کا موقف سامنے آ گیا،انتظامیہ پر سنگین الزامات لگا دئیے۔احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا تھا کہ جس دن احتجاج ہوا اس روز خرم نواز گنڈا پور رات کے 2 بجے لڑکیوں کے ہاسٹل میں گھس آئے اور لڑکیوں کے موبائل فون چیک کئیے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ہاسٹل انتظامیہ نے دھمکی کی دی کہ اگر بات میڈیا پر آئی تو لڑکیوں کی نازیبا تصاویر وائرل کردیں گے جس پر انکے رشتے نہیں آئیں گے۔تفصیلات کے مطابق خرم نواز گنڈا پور کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی تھی جس میں خرم نواز گنڈا پور احتجاج کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ بد سلوکی کر رہے تھے۔اس حوالے سے لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی پر خرم نواز گنڈا پور کا موقف سامنے جس میں انہوں نے طالبات پر الزام عائد کیا کہ لڑکیاں 10بجے رات باہر جانا چاہتی تھیں منع کرنے پر لڑکیوں نے ملکر ہاسٹل کے سٹاف کو یرغمال بنا رکھا تھا ،جب منتشر ہونے کا کہا تو لڑکیوں نے بدتمیزی شروع کر دی۔

(جاری ہے)

تاہم منہاج یونورسٹی کے ہاسٹل میں احتجاج کرنے والی طالبات کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ وہ کہیں بھی باہر نہیں جانا چاہتی تھیں بلکہ یونیورسٹی کی جانب سے منعقدہ ایک افطار پارٹی میں شریک ہونا چاہتی تھیں۔جس کے لیے وائس چانسلر صاحب نے بھی اجازت دے رکھی تھی لیکن عین وقت پر ہاسٹل انتظامیہ نے منع کر دیا اور لڑکیوں کے ساتھ بد تمیزی بھی کی۔

جس پر لڑکیوں نے احتجاج شروع کیا تو خرم نواز گنڈا پور نے لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ انتہائی شرمناک تھا۔احتجاج کرنے والی ایک طالبہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ہاسٹل میں موجود طالبات کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پر رہا ہے ۔طالبات ایک عرصے سے ان مسائل پر آواز بلند کر رہی ہیں تا ہم انکی شنوائی نہیں ہو رہئی۔اس موقع پر طالبات نے خرم نواز گنڈا پور پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جس دن یہ معاملہ سامنے آیا خرم نواز گنڈا پور مرد ہو کر رات کے 2بجے لڑکیوں کے ہاسٹل میں گھس آئے اور آ کر لڑکیوں کہ موبائل چیک کئیے کہ کسی نے واقعے کی ویڈیو تو نہیں بنائی جبکہ ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے بھی لڑکیوں کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر انہوں نے یہ معاملہ میڈیا کے سامنے رکھا تو انکی ایسی تصاویر وائرل ک دی جائیں گی جس کے بعد انکے رشتے نہیں ہو سکیں گے۔

اس موقع پر طالبات کا مزید کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کی چھان بین ہونی چاہیے ۔

Your Thoughts and Comments