Majeed Lahori - Joke No. 455

مجید لاہوری - لطیفہ نمبر 455

مجید لاہوری ایک دلچسپ انسان اور عظیم شاعر تھے۔ ایک بار وہ مشاعرے میں بیٹھے پڑھنے والے شاعروں پر پھبتیاں کس رہے تھے ایک کہنہ مشق بزرگ شاعر کی باری آ گئی مشاعرے میں”بات کیا کیا رات کیا کیا“ کی زمین پر اشعار پڑھے جا رہے تھے بزرگ شاعر نے پہلا مصرع پڑھا یہ دل ہے یہ جگر ہے یہ کلیجہ مجید لاہوری نے بے ساختہ شعر اس طرح مکمل کر دیا قصائی دے گیا سوغات کیا کیا

مزید لطیفے

سکول

School

نظر کمزور

Nazar kamzor

جب بینک

Jab Bank

پاگل پن

pagalpan

درخواست

Darkhwast

ایک صاحب گوالے سے

aik sahib gwale se

مہمان

Mehman

بدھو وکیل

Budhoo Wakeel

”یار

yaar

نفسیات

Nafsiyat

دو کاروباری

do karobari

جلسے میں کونسلر

jalsay mein councillor

Your Thoughts and Comments