Aasman Se Gira Khajoor Main Atka

Aasman Se Gira Khajoor Main Atka

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

راشد کو کسی کام کے سلسلے میں لاہور جانا تھا۔لاہور کے لئے گاڑی کو ٹھیک چھ بجے روانہ ہونا تھا۔اور ابھی صرف چار ہی بجے تھے۔راشد ایک بیگ میں اپنا سامان رکھ رہا تھا جب سامان پیک ہو گیا تو راشد نے اپنے ایک دوست کمال کو فون کیا اور اسے اپنے گھر آنے کے لئے کہا۔

اطہر اقبال:
راشد کو کسی کام کے سلسلے میں لاہور جانا تھا۔لاہور کے لئے گاڑی کو ٹھیک چھ بجے روانہ ہونا تھا۔اور ابھی صرف چار ہی بجے تھے۔راشد ایک بیگ میں اپنا سامان رکھ رہا تھا جب سامان پیک ہو گیا تو راشد نے اپنے ایک دوست کمال کو فون کیا اور اسے اپنے گھر آنے کے لئے کہا۔

”ڈنگ․․․․ڈونگ․․․․“دروازے پر بیل کی آواز سن کر راشد نے دروازہ کھولا تو کمال کھڑا مسکرا رہا تھا۔
“کیا پروگرام ہے جناب کا؟“کمال نے پوچھا۔”یار کمال تمہیں تو پتا ہی ہے کہ آج میں شام چھ بجے والی گاڑی سے لاہور جارہا ہوں۔
تم ایسا کرو کے اپنی موٹر سائیکل پر مجھے اسٹیشن تک چھوڑدو،ذرا کمپنی رہے گی۔“راشد نے کہا اور پھر ساڑھے چار بجے کے قریب راشد،کمال کے ساتھ اسٹیشن کے لئے روانہ ہوگیا۔

(جاری ہے)

ابھی موٹر سائیکل نے تھوڑا فاصلہ ہی طے کی تھا کے اچانک جھٹکے لیتی ہوئی بند ہو گئی۔

کمال موٹر سائیکل کو ایک طرف کھڑی کر کے اسے دیکھنے لگا۔”ذراجلدی کرو،وقت پر اسٹیشن پہنچنا ہے“۔راشد نے بے قراری سے کہا۔تقریبا بیس منٹ کے بعد موٹر سائیکل دوبارہ اسٹارٹ ہو گئی۔اور دونوں اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگئے۔ابھی یہ دونوں صدر کے علاقے تک ہی پہنچے تھے کہ معلوم ہوا کے یہاں ٹریفک جام ہے۔
کمال نے کوشش کی کہ اپنی موٹر سائیکل کسی اور راستے سے نکال لے مگر اب اس کے پیچھے بھی کئی گاڑیاں قطار میں لگ چکی تھیں۔لہذا کمال کے لئے ا ب یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ اپنی موٹر سائیکل اس رش میں سے نکال سکے۔گاڑیاں آہستہ آہستہ چلتیں اور پھر رک جاتیں۔
ٹریفک بہت بری طرح سے جام تھا۔کافی دیر ٹریفک میں پھنے رہنے کے بعد یہ دونوں اسٹیشن پہنچے تو معلوم ہوا کہ ٹرین ابھی ایک منٹ پہلے ہی نکلی ہے۔”یار یہ تو بہت برا ہوا“راشد نے کہا”کیا کریں،پہلے اپنی گاڑی خراب ہوگئی اس میں وقت لگ گیا اور پھر جب موٹر سائیکل اسٹارٹ ہوئی تو ٹریفک میں پھنس گئے“۔
”یعنی آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔“راشد نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

Your Thoughts and Comments