Achi Saheli - Article No. 863

اچھی سہیلی

آج میں کافی بور ہورہی تھی کیوں کہ آج میری اچھی سہیلی سکول نہیں آئی تھی۔ میں اپنی سیٹ پر خاموش بیٹھی تھی کہ ٹیچر کی آواز پر میں نے سامنے دیکھا۔۔۔

منگل 10 نومبر 2015

Achi Saheli
فریحہ بتول:
آج میں کافی بور ہورہی تھی کیوں کہ آج میری اچھی سہیلی سکول نہیں آئی تھی۔میں اپنی سیٹ پر خاموش بیٹھی تھی کہ ٹیچر کی آواز پر میں نے سامنے دیکھا۔مس کسی لڑکی کاتعارف پوری کلاس سے کرارہی تھی۔
اس کانام مس نے صائمہ بتایا۔ذہانت صائمہ کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی لیکن جیسے ہی میں نے اُس کواُوپر سے نیچے تک دیکھا۔وہ دوبیساکھیوں کے سہارے کھڑی تھی۔ پہلے تو مجھے بہت افسوس ہوا۔ لیکن جن مس نے اس کومیرے ساتھ بیٹھنے کوکہا تو یہ افسوس غصہ میں بدل گیا کیونکہ یہ میری سہیلی کی جگی تھی اور صائمہ کے یہاں بیٹھنے سے میری سہیلی کومجھ سے دور بیٹھنا پڑتا۔
اُس نے مجھے مسکرا کردیکھا تو میں کوشش کے باوجود مسکرانہ سکی۔اس سے دوستی بھی نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ نہ وہ میرے ساتھ کھیل سکتی تھی۔

(جاری ہے)

نہ بھاگ دوڑ کرسکتی تھی اور میں توبہت متحرک قسم کی لڑکی تھی۔میں اسے دوستی کرکے بورنہیں ہونا چاہتی تھی۔

دوسرے دن میری سہیلی سکول آئی تو اس کو پیچھے بیٹھنا پڑا۔ میری سہیلی اور باقی کلاس فیلوز نے یہ منصوبہ بنایاکہ اس کوتنگ کریں گے کہ یہ خود سکول چھوڑ کرچلی جائے۔اس منصوبے کوعملی جامہ پہنانے کیلئے لڑکیوں نے اس کوتنگ کرنا شروع کردیا۔
چلتے چلتے دھکا دے دیتیں۔صائمہ گرپڑتی،کبھی برابر سے گزرتے اس پر سیاہی گرادیتیں۔مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوتا لیکن میں اپنے اس خیال کوجھٹک دیتی یہ سوچ کرکہ اگر میں نے اس کوقبول کرکے اس سے دوستی کرلی تو مجھے بھی اس کے ساتھ ایک جگی بیٹھنا پڑے گا اور میری زندگی کتنی بور ہوجائے گی۔

صائمہ لنچ بریک میں اکیلی بیٹھی ہوتی کوئی اس کہ پاس نہ جاتا۔ایک روز صائمہ کوریڈورمیں آرام آرام سے بیساکھی کے سہارے جارہی تھی کہ دولڑکیاں بھاگتی ہوئی اس کے برابر سے گزریں اور دھکا دے دیا۔میں پیچھے ہی آرہی تھی ،صائمہ ایک دم لڑکھڑا گئی اور گرنے ہی والی تھی۔
میں نے جلدی سے اسے تھام لیا۔اس کی آنکھوں میں آنسو صاف نظر آرہے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تو وہ صاف ان لڑکیوں کوبچا گئی اور کہا میں لڑکھڑا کرگرگئی تھی۔مجھے پتہ نہیں کیوں اس وقت ان لڑکیوں پر بہت غصہ آیا میں اس دن صائمہ کے ساتھ ہی رہی۔

دوسرے دن تو حدہی ہوگئی۔لنچ بریک میں جب سب گراؤنڈ میں کھیل رہے تھے میرا گزرکلاس کے باہر سے ہوا تو میں نے دیکھا صائمہ کلاس میں بیٹھی رورہی ہے۔میں اس کے پاس گئی تو اس نے کہا لڑکیوں نے اس کی بیساکھیوں چھپادی ہیں۔میں بیساکھیوں کے بغیرکہیں نہیں جاسکتی ۔
یہ کہہ کروہ رونے لگی۔میں اسی وقت ان لڑکیوں کے پاس گئی جنہوں نے صائمہ کوتنگ کرنے کاپروگرام بنایا تھا۔ ان لڑکیوں سے کہا اگر تم نے صائمہ کی بیساکھیوں واپس نہ کیں اور اس سے معافی نہ مانگی تو میں سچ سچ ہر بات پرنسپل کوبتادوں گی۔
میری یہ دھمیکی کام کرگئی اور ان لڑکیوں نے خودبیساکھیوں صائمہ کوواپس کیں اور اس سے معافی بھی مانگی اور آئندہ تنگ نہ کرنے کابھی وعدہ کیا۔آج میری سب سے بہترین دوست صائمہ ہے وہ پڑھنے میں بہت اچھی ہے۔ وہ پڑھائی میں میری مدد کرتی ہے اور میں عام معاملات میں اس کاساتھ دیتی ہوں۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Shehad Ki Aik Boond - Aakhri Hissa

شہد کی ایک بوند (آخری حصہ)

Shehad Ki Aik Boond - Aakhri Hissa

احسان کی قید

Ahsan Ki Qaid

Hathi Ki Tarbiyat

ہاتھی کی تربیت

Hathi Ki Tarbiyat

Koyle

کوئل

Koyle

Manhoos Kon

منحوس کون

Manhoos Kon

12 Islami Months Per Mukhtasar Nazar

بارہ اسلامی مہینوں پر مختصر نظر

12 Islami Months Per Mukhtasar Nazar

Hoshayar Billi Aur Dushman Ki Misaal

ہوشیار بلی اور دشمن کی مثال

Hoshayar Billi Aur Dushman Ki Misaal

Zaban Ka Zakham

زبان کا زخم

Zaban Ka Zakham

Aqal Mand Shahzadi

عقل مند شہزادی۔۔۔تحریر: مختار احمد

Aqal Mand Shahzadi

Mosquito K Bare Main Heeran Kun Malomat

مچھر کے بارے میں حیران کن معلومات

Mosquito K Bare Main Heeran Kun Malomat

Azad Parinda

آزاد پرندہ

Azad Parinda

Asaal Wajah

اصل وجہ

Asaal Wajah

Your Thoughts and Comments